| رَہنمائے جدول |
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!
ہمارا اٹھنا بیٹھنا بھی سنّت کے مطابق ہونا چاہيے ۔ ہمارے پیارے آقا صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم اکثر قبلہ شریف کی طر ف روئے انور کر کے بیٹھا کرتے تھے ۔زہے نصیب ہم بھی کبھی کبھی قبلہ رو ہو کر بیٹھیں تو کبھی مدینہ منورہ کی طرف منہ کر کے بیٹھیں کہ یہ بھی بہت بڑی سعادت ہے کا ش ! مدینہ پاک کی طرف رخ کر کے بیٹھتے وقت یہ تصور بھی بندھ جائے اور زبان حال سے یہ اظہار ہونے لگے ۔دیدار کے قابل تو کہا ں میری نظر ہے یہ تیری عنایت ہے جو رخ تیرا ادھر ہے
بیٹھنے کی چند سنّتیں اور آداب ملاحظہ ہوں:
(۱) سرین زمین پر رکھیں اور دونوں گھٹنوں کو کھڑا کر کے دونوں ہاتھوں سے گھیر لیں اور ایک ہاتھ سے دوسرے کو پکڑ لیں ، اس طرح بیٹھنا سنت ہے( لیکن اس دوران گھٹنوں پر کوئی چادروغیرہ اوڑھ لینا بہتر ہے۔)(مراٰۃالمناجیح،ج۶،ص۳۷۸)
(۲) چارزانو (یعنی پالتی مار کر) بیٹھنا بھی نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم سے ثابت ہے۔
(۳) جہاں کچھ دھوپ اور کچھ چھاؤں ہو وہاں نہ بیٹھیں ۔حضرت سیدناابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ عزوجل کے مَحبوب، دانائے غُیوب، مُنَزَّہٌ عَنِ الْعُیوب صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ والہٖ وسلّم نے فرمایا:''جب تم میں سے کوئی سائے میں ہو اور اس پر