Brailvi Books

رَہنمائے جدول
209 - 248
قلب وسینہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم سے میں نے عرض کی کہ میرے سر پر پورے بال ہیں،میں ان کوکنگھا کیاکروں ؟ تو آقائے مدینہ ، فیض گنجینہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم نے فرمایا: ''ہاں اوران کا اکرام کرو ۔'' لہٰذا حضرت سیدنا ابو قتادہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ میٹھے مدنی آقا صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم کے فرمانے کی وجہ سے کبھی کبھی تو دن میں دودومرتبہ بھی تیل لگایا کرتے ۔
(مؤطا امام مالک ،کتاب الشعر،باب اصلاح الشعر،الحدیث،۱۸۱۸،ج۲،ص۴۳۵)
    (۸)بال بکھرے ہوئے نہ رکھیں۔حضرت سیدنا عطا بن یسار رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ تاجدار دوعالم ،شاہ بنی آدم، رسول اکرم، نورمجسم صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم مسجد میں تشریف فرماتھے ۔ اتنے میں ایک شخص آیاجس کے سر اور داڑھی کے بال بکھرے ہوئے تھے ۔ہمارے میٹھے مدنی آقا صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم نے اس کی طر ف اس انداز پر اشارہ کیا جس سے صاف ظاہر ہوتا تھا کہ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم اس کو بال درست کرنے کا حکم فرمارہے ہیں۔وہ شخص بال درست کر کے واپس آیا ،سر کار مدینہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ''کیایہ اس سے بہتر نہیں ہے کہ کوئی شخص بالوں کواس طر ح بکھیرکرآتاہے گویا وہ شیطان ہے ۔''
(مؤطا امام مالک ،کتاب الشعر،باب اصلاح الشعر،الحدیث،۱۸۱۹،ج۲،ص۴۳۵)
    میٹھے اسلامی بھائیو!مندرجہ بالا احادیث مبارکہ میں سر اور داڑھی کے بالوں کو بکھرا ہوا اور بے ترتیب چھوڑنا نا پسندیدہ بتایاگیاہے اور فرمایا گیا ہے کہ بالوں کااکرام کیا کر ویعنی ان کو تیل اور کنگھی کے ذریعے درست رکھا کرو ۔بلکہ بیان کی گئی آخر ی حدیث پاک میں تو بکھرے ہوئے بال رکھنے والے کو شیطان سے تشبیہ دی گئی ہے۔ 

    لہٰذاہمیں چا ہیے کہ ہم اپنے لباس کوپاک وصاف رکھنے کے ساتھ ساتھ اپنے
Flag Counter