| رَہنمائے جدول |
افراد کو ہماری موجود گی کا احساس ہوجائے اور وہ آگے پیچھے ہوسکیں۔
(۹)اگر دروازے پر پر دہ نہ ہو تو ایک طر ف ہٹ کر کھڑے ہوں۔حضرت عبداللہ بن بسررضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم جب کسی کے دروازہ پر تشریف لاتے تو دروازے کے سامنے کھڑے نہ ہوتے بلکہ دائیں یا بائیں جانب کھڑے ہوتے پھر فرماتے '' اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ'' ''اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ'' اور یہ اس لئے کہ ان دنوں دروازوں پر پردے نہیں ہوتے تھے ۔(سنن ابی داؤد ،کتاب الادب ،فصل کم مرۃ یسلم الرجل فی الاستئذان ،الحدیث ۵۱۸۶،ج۴،ص۴۴۶)
(۱۰)جب کوئی کسی کے گھر جائے تو اندر سے جب کوئی دروازے پر آئے تو پوچھے کون ہے ؟ باہر والا''میں ''نہ کہے جیسا کہ آج کل بھی یہی رواج ہے ۔ بلکہ اپنا نام بتا ئے ۔جواباً '' میں '' کہنا سرکار صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم کو پسند نہیں ۔(بہار شریعت،حصہ۱۶،ص۸۳) جیساکہ حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے فرمایا ، میں مدنی آقاصلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا ۔ اور دروازہ کھٹکھٹا یا۔آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم نے فرمایا: کون ہے ؟ میں نے عرض کی ''میں ''آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم نے فرمایا: میں ، میں کیا ؟ گویا آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم نے اس کو ناپسند فرمایا ۔
(صحیح البخاری ،کتاب الاستئذان ،باب اذاقال من ذافقال انا،الحدیث ۶۲۵۰،ج۴،ص۱۷۱)
(۱۱)کسی کے گھر میں جھانکنا نہیں چاہيے ،جیسا کہ حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے ، رسول اکرم شفیع رو ز محشرصلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم خانہ اقدس میں تشریف فرماتھے ۔ کہ ایک شخص نے آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم کوجھانکا توآپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم نے نیزہ کی نوک اس کی طرف کی چنا نچہ وہ پیچھے ہٹ گیا ۔''
(جامع الترمذی ،کتاب الاستئذان ،باب من اطلع فی دار قوم بغیر اذنھم،الحدیث۲۷۱۷،ج۴،ص۳۲۵ )