Brailvi Books

رَہنمائے جدول
176 - 248
    حضرت کلدہ بن حنبل رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں ۔ میں حضور سید دوعالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم کی خدمت بابرکت میں حاضر ہوا ۔ میں جب اندر داخل ہوا اور سلام عرض نہ کیا تو حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم نے فرمایا ،'' لوٹ جاؤ اور یہ کہو، '' اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ'' کیامیں داخل ہوسکتا ہوں ؟''
 (سنن ابی داؤد،کتاب الادب ،باب کیف الاستئذان ،الحدیث۵۱۷۶،ج۴،ص۴۴۲)
    (۷)اگر کوئی شخص آپ کو بلانے کے لئے بھیجے او ربھیجا ہو ا شخص آپ کو ساتھ لے کر جائے تو اب اجازت لینے کی ضرورت نہیں۔ ساتھ والا شخص ہی خود ''اجازت'' ہے جیسا کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم نے فرمایا:'' جس وقت تم میں سے کسی کو بلایا جائے ، اور وہ ایلچی (یعنی قاصد)کے ساتھ آئے یہ اس کا اِذن (اجازت) ہے۔'' ایک اور روایت میں ہے کہ آدمی کا کسی کو بلانے کے لئے بھیجنا اس کی طر ف سے اجازت ہے ۔
 (سنن ابی داؤد،کتاب الادب ،باب الرجل اذادعی أیکون ذلک اذنہ، ،الحدیث۹۸۱۵،ج۴،ص۴۴۷)
    (۸)اپنی موجودگی کا احساس دلانے کے لئے کھنکارناچاہيے جیسا کہ مولائے کائنات حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم کی خدمت بابر کت میں ایک مرتبہ رات کے وقت اور ایک مرتبہ دن کے وقت حاضر ہوتا تھا ۔جب میں رات کے وقت آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم کے پاس حاضری دیتا آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم میرے لئے کھنکارتے ۔''
 (سنن ابن ماجہ ،کتاب الادب ،باب الاستئذان،الحدیث۳۷۰۸،ج۴،ص۲۰۶)
    میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! جب کسی کے گھر جائیں تو دروازے سے گزرتے وقت ضرور تاً دو سرے کمرے کی طر ف جاتے ہوئے کھنکارلینا چاہيے تاکہ گھر کے دیگر
Flag Counter