Brailvi Books

رَہنمائے جدول
175 - 248
تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم نے فرمایا:'' جو شخص سلام کے ساتھ ابتدا ء نہ کرے اس کواجازت نہ دو ۔''
 (شعب الایمان للبیھقی،باب فی مقاربۃ وموادۃ اہل الدین ،فصل فی الاستئذان الحدیث۸۸۱۶،ج۶،ص۴۴۱)
    گھرمیں داخلہ کی اجازت مانگنے میں ایک حکمت یہ بھی ہے کہ فورا گھر میں باہر والے کی نظرنہ پڑے ۔ آنے والا باہر سے سلام کر رہا ہو، اجازت چاہ رہا ہو اور صاحب خانہ پردہ وغیرہ کا انتظام کر لے۔حضرت سہل بن سعدرضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے ، فرماتے ہیں کہ حضور تا جدارِ مدینہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم نے فرمایا:'' اجازت طلب کرنے کا حکم آنکھ کی وجہ سے دیا گیا ہے ۔( اس لئے کہ اہل خانہ کی نجی زندگی کے اسرار منکشف نہ ہوسکیں) ۔
 (صحیح مسلم ،کتاب الادب ،باب الاستئذان،الحدیث۲۱۵۶،ص۱۱۸۹)
    (۶) جب کسی کے گھر جانا ہو اجازت مانگنا سنت ہے۔بہتر یہ ہے کہ اس طر ح اجازت مانگیں ''اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ''کیا میں اندر آسکتا ہوں ؟'' (مراٰۃالمناجیح،ج۶،ص۳۴۶) حضرت رِبعی بن حراش رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں ، ہمیں بنو عامر کے ایک شخص نے یہ بات بتائی کہ اس نے حضور نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم سے اجازت طلب کی ۔ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم گھر میں تشریف فرماتھے ۔ اس نے عرض کیا ، کیا میں داخل ہوجاؤں ؟حضور نبی کریم رء وف رحیم صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم نے اپنے خادم سے فرمایا: باہر اس آدمی کے پاس جاؤ اور اس کو اجازت طلب کرنے کا طریقہ سکھاؤ ، اس سے کہو کہ اس طر ح کہے، اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ کیامیں داخل ہوسکتا ہوں ؟''اس آدمی نے سر کار مدینہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم کا ارشاد سن لیا اور عرض کیا ، اَلسَّلَامُ عَلَیْکُم ْکیا میں داخل ہوسکتا ہوں ؟ تو سرکارمدینہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم نے اس کو اجازت عطا فرمائی اور وہ اند ر داخل ہوا ۔
 (سنن ابی داؤد،کتاب الادب ،باب کیف الاستئذان ،الحدیث۵۱۷۷،ج۴،ص۴۴۳)
Flag Counter