Brailvi Books

رَہنمائے جدول
163 - 248
عیادت یہ ہے کہ اس کی پیشانی پر ہاتھ رکھ کر پوچھے کہ مزاج کیسا ہے ؟ اور پوری تحیت (سلام کرنا ) یہ ہے کہ مصافحہ بھی کیاجائے ۔
(جامع الترمذی ،کتاب الاستیذان والادب،باب ماجآء فی المصافحہ ،الحدیث ،۲۷۴۰،ج۴،ص۳۳۴ )
    میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! خندہ پیشانی سے ملاقات کرنا حسن اخلاق میں سے ہے، سرکار مدینہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم فرماتے ہیں ،'' لوگوں کو تم اپنے اموال سے خوش نہیں کرسکتے لیکن تمہاری خندہ پیشانی اورخوش اخلاقی انہیں خوش کرسکتی ہيں۔''
(شعب الایمان ، باب حسن الخلق ،فصل فی طلاقۃ الوجہ ،الحدیث ۸۰۵۴،ج۶، ص۲۵۳)
     (۶)خوشی میں کسی سے گلے ملنا سنت ہے ۔(مراٰۃ المناجیح،ج۶،ص۳۵۹)حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں: زید بن حارث رضی اللہ تعالیٰ عنہ مدینہ آئے اور حضور نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم میرے گھر میں تھے ،زیدرضی اللہ تعالیٰ عنہ وہاں آئے اوردروازہ کھٹکھٹا یا ۔ حضورصلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم اٹھ کر کپڑاکھینچتے ہوئے ان کی طر ف تشریف لے گئے ۔ ان سے معانقہ کیا اور ان کو بوسہ دیا۔
(جامع الترمذی،کتاب الاستئذان ،باب ماجآء فی المعانقۃ والقبلۃ،الحدیث۲۷۴۱،ج۴،ص۳۳۵)
    سرکا ر مدینہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم نے حضرت ابوذر غفاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو طلب فرمایا ، جب وہ حاضر ہوئے تو سرکا رصلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم نے فرط ِشفقت سے حضرت ابو ذر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کوگلے لگا لیا ۔ چنا نچہ حضرت ایوب بن بشیررضی اللہ تعالیٰ عنہ ایک صاحب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں انہوں نے کہا ، میں نے ابو ذررضی اللہ تعالیٰ عنہ سے پوچھا ،جس وقت تم رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم سے ملتے تھے کیا آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم تمہارے ساتھ مصافحہ فرماتے تھے ؟ انہوں نے فرمایا : میں کبھی آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم کو نہیں ملا مگر آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم میرے ساتھ مصا فحہ کرتے (یعنی میں نے جب بھی ملاقات کا شرف حاصل کیا ، سرکارصلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم نے مصا فحہ ضرور فرمایا)ایک دن آپ
Flag Counter