Brailvi Books

رَہنمائے جدول
164 - 248
صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم نے میری طر ف پیغام بھیجا ۔میں اپنے گھر موجود نہیں تھا ۔ جب میں آیا مجھے خبر دی گئی ۔ میں آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوگیا ۔آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم تخت پر رونق افرو ز تھے۔آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم نے مجھے گلے لگالیا۔یہ بہت بہتر ہوا اور بہتر ۔
(سنن ابی داؤد ،کتاب الادب ،باب فی المعانقہ ،الحدیث۵۲۱۴،ج۴،ص۴۵۳)
    حضرت سیدنا جعفررضی اللہ تعالیٰ عنہ سرکا ر ابد قرارصلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم کی خدمت بابرکت میں حاضر ہوئے تو ان کو بھی گلے سے لگایا چنانچہ حضرت شعبی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ،روف رحیم صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم جعفر بن ابی طالب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو ملے تو گلے سے لگالیا او ران کی آنکھوں کے درمیان بو سہ دیا ۔
(سنن ابی داؤد ،کتاب الادب ،باب فی قبلہ مابین العینین ،الحدیث۵۲۲۰،ج۴،ص۴۵۵)
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!

    خوش نصیب صحابہ کرام علیہم الرضوان سرکار ذی وقار صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم کے رحمت بھرے ہاتھوں کو چومنے کی سعادت بھی حاصل کرتے تھے ۔ حضرت ابن عمررضی اللہ تعالیٰ عنہما سے ایک واقعہ مروی ہے جس میں آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا :ہم حضور تاجدار مدینہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم کے قریب ہوئے اور ہم نے آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم کے ہاتھوں کو بوسہ دیا۔
(سنن ابی داؤد ،کتاب الادب ،باب فی قبلۃ الید،الحدیث۵۲۲۳،ج۴،ص۴۵۶)
؎ جن کو سوئے آسماں پھیلا کے جل تھل بھردیئے 

صدقہ ان ہاتھوں کاپیارے ہم کو بھی درکار ہے
Flag Counter