| رَہنمائے جدول |
(۲)ملاقات کے وقت مصافحہ کرنے والوں کے لئے دعا کی قبولیت اور ہاتھ جداہونے سے قبل ہی مغفرت کی بشارت ہے ۔ چنانچہ حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ سرکار مدینہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم نے ارشادفرمایا:'' جب دو مسلمانوں نے ملاقات کی او رایک دو سرے کا ہاتھ پکڑلیا (یعنی مصافحہ کیا) تو اللہ تعالیٰ کے ذمہ کرم پر ہے کہ ان کی دعا کوحاضر کردے (یعنی قبول فرمالے) اور ہاتھ جدا نہ ہونے پائیں گے کہ ان کی مغفرت ہوجائے گی ۔ اور جو لوگ جمع ہو کر اللہ تعالیٰ کا ذکرکرتے ہیں اور سوائے رضائے الٰہی عزوجل کے ان کا کوئی مقصد نہیں تو آسمان سے منادی ندا دیتاہے کہ کھڑے ہوجاؤ! تمہاری مغفرت ہوگئی، تمہارے گناہوں کو نیکیوں سے بدل دیا گیا۔''
(المسند للامام احمد بن حنبل ،مسند انس بن مالک ،الحدیث ۱۲۴۵۴،ج۴،ص۲۸۶)
(۳)اسلامی بھائیوں کے آپس میں مصافحہ کرنے کی برکت سے دونوں کے گناہ بخش دیے جاتے ہیں ۔تا جدار مدینہ لی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم نے ارشاد فرمایا :'' مسلمان جب اپنے مسلمان بھائی سے ملے اور ''ہاتھ پکڑے'' (یعنی مصافحہ کرے ) تو ان دو نوں کے گناہ ایسے گرتے ہیں جیسے تیز آندھی کے دن میں خشک درخت کے پتے ۔ اور ان کے گناہ بخش دیئے جاتے ہیں اگر چہ سمند ر کی جھاگ کے برابر ہوں ۔''
(شعب الایمان ،باب فی مقاربۃ وموادۃ اہل الدین ،فصل فی المصافحۃ والمعانقۃ،الحدیث ۸۹۵۰،ج۶،ص۴۷۳ )
رحمتِ عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم نے ارشاد فرمایا:''جب دودو ست آپس میں ملتے ہیں اور مصافحہ کرتے ہیں اور نبی( صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم ) پردرود پاک پڑھتے ہیں تو ان دونوں کے جدا ہونے سے پہلے پہلے دونوں کے اگلے پچھلے گناہ بخش دیئے جاتے ہیں ۔''
(شعب الایمان ،باب فی مقاربۃ وموادۃ اہل الدین ،فصل فی المصافحۃ والمعانقۃ ،الحدیث ۸۹۴۴،ج۶،ص۴۷۱ )
(۴)سب سے پہلے یمنی اسلامی بھائیوں نے سر کارِ پُرْوقارصلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم سے مصافحہ کرنے (ہاتھ ملانے )کا شرف حاصل کیا ۔چنانچہ حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ جب اہل یمن مدنی سرکارصلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم کی خدمت بابرکت میں حاضر ہوئے تو حضور نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم نے فرمایا:''تمہارے پاس اہل یمن آئے ہیں اور وہ پہلے آدمی ہیں، جنہوں نے آکر مصافحہ کیا ۔''
(سنن ابی داؤد،کتاب الادب ،باب فی المصافحہ،الحدیث ۵۲۱۳،ج۴،ص۴۵۳ )
(۵)سلام کے ساتھ ساتھ مصافحہ کرنے سے سلام کی تکمیل ہوتی ہے ۔ حضرت ابو امامہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے ، سرکار مدینہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم نے ارشاد فرمایا:'' مریض کی پوری