Brailvi Books

رَہنمائے جدول
139 - 248
 واٰلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: 

     ''جو قوم کتاب اللہ کی تلاوت کے لیے اللہ تعالیٰ کے گھروں میں سے کسی گھر میں جمع ہواورایک دوسرے کے ساتھ درس کی تکرار کرے تو اُن پر (i)سکینہ (اطمینان وسکون)نازل ہوتاہے (ii)رحمت انہیں ڈھانپ لیتی ہے (iii)فرشتے انہیں گھیر لیتے ہیں ۔(iv)اوراللہ تعالیٰ ان کا ذکر فرشتوں کے سامنے فرماتاہے ۔''
 (صحیح مسلم ،کتاب الذکر والدعا....الخ ،باب فضل اجتماع علی تلاوۃ القرآن ...الخ ،الحدیث ۲۶۹۹،ص ۸۔۱۴۴۷)
سرورِ عالم نورِ مجسم صلی اللہ تعالیٰ علیہ اٰلہٖ وسلم نے ارشاد فرمایا: 

    اے ابو ذر! صبح کے وقت تیر ا کتاب اللہ سے ایک آیت سیکھنا تیرے لیے سورکعتیں ادا کرنے سے اچھاہے اورصبح کے وقت تیرا علم کی ایک بات سیکھنا ہزار رکعت نماز پڑھنے سے اچھا ہے خواہ اس پر عمل ہویا نہ ہو۔
 (سنن ابن ماجہ ، کتاب السنہ ،باب فی فضل من تعلم..... الخ الحديث ۲۱۹،ج۱،ص۱۴۲)
سرکار مدینہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: 

    مومن کو اس کے عمل اورنیکیوں سے مرنے کے بعد بھی یہ چیزیں پہنچتی رہتی ہیں۔(۱)علم جس کی اس نے تعلیم دی اوراشاعت کی (۲) اولادِ صالح جسے چھوڑ کر مرا ہے (۳) مصحف (قرآن مجید) جسے میراث میں چھوڑا (۴)مسجد بنائی (۵)مسافر کے لیے مکان بنادیا (۶)لوگوں کے لیے نہر جاری کردی (۷)اپنی صحت اورزندگی میں اپنے مال میں سے صدقہ نکال دیاجو اس کے مرنے کے بعد اُس کو ملے گا۔
 (سنن ابن ماجہ ،کتاب السنہ ،باب ثواب معلم الناس الخير،الحديث ۲۴۲ج۱،ص۱۵۷ )
    حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک بارحضور صلی اللہ تعالیٰ
Flag Counter