Brailvi Books

رَہنمائے جدول
117 - 248
فضیلت کے کیا کہنے ۔۔۔۔۔۔ حضرتِ ابودَرْدَاء رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رحمت عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم کو فرماتے ہو ئے سناکہ ''جو علم کی تلاش میں کسی راستے پر چلتاہے تواللہ تعالیٰ اس کے لئے جنت کا راستہ آسان فرمادیتاہے اور بے شک فرشتے طالب علم کے عمل سے خوش ہوکر اس کے لئے اپنے پر بچھا دیتے ہیں اور بے شک زمین وآسمان میں رہنے والے یہاں تک کہ پانی میں مچھلیاں عالم دین کے لئے استغفار کرتی ہیں اور عالم کی عابد پر فضیلت ایسی ہے جیسی چودھویں رات کے چاند کی دیگر ستاروں پر اور بے شک علماء وارث ِانبیا ء علیہم السلام ہیں بیشک انبیاء علیہم السلام درہم ودینار کا وارث نہیں بناتے بلکہ یہ نفوس ِ قدسیہ علیہم السلام تو صرف علم کا وارث بناتے ہیں تو جس نے اسے حاصل کرلیا اس نے بڑا حصہ پالیا ۔ ''
(سنن ابن ماجہ ، کتاب السنۃ ،ج۱،ص۱۴۵، رقم الحدیث:۲۲۳ )
    پیارے بھائی! ذرا غور کیجئے کہ دنیاوی ضروریات کو پورا کرنے اور آسائیشوں کے حصول کے لئے لوگ کئی کئی سال کے لئے اپنے والدین ،بیوی بچوں اور دوست احباب کو چھوڑ کر اپنے وطن سے دور دوسرے ملک کا سفر اختیار کرتے ہیں ۔ آخرت کا معاملہ تو دنیا سے کہیں زیادہ اہم ترین ہے ، میں آپ سے صرف تیس دن کی درخواست کرتا ہوں ، برائے کرم تیس دن کے لئے مدنی قافلوں میں سفر کی نیت فرما لیں اور اپنا نام بھی لکھا دیجئے۔اللہ تعالیٰ آپ کو اور مجھے دونوں جہاں کی بھلائیاں نصیب فرمائے۔ اٰمین بجاہ النبی الامین صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم
Flag Counter