کوششوں ہی کا نتیجہ ہے کہ آج شجرِ اسلام ہرابھرا نظر آرہا ہے ۔
مسلمانوں کی چودہ سو سالہ تاریخ بتاتی ہے کہ ہم عزت وعظمت اور شان وشوکت کے تنہا مالک تھے مگر اب آہ! مسلمانوں کی حالتِ زار ہمارے سامنے ہے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ نمازی تھے اور ہماری اکثریت بے نمازی ، وہ سنت کے دیوانے تھے اور ہم فیشن کے مستانے ، وہ خود بھی نیکیاں کرتے اور دوسروں تک بھی نیکی کی دعوت پہنچاتے تھے جبکہ ہم نہ صرف خود گناہ کرتے ہیں بلکہ دوسروں کو بھی گناہوں کے اسباب مہیا کرتے ہیں ، وہ اسلام کی سر بلندی کی خاطر راہِ خدا عزوجل میں سفر کرتے جبکہ ہم محض مالِ دنیا کی جستجو میں دور دراز کے سفر اختیار کرتے ہیں ، انہیں نیکیاں کمانے کی جستجو جبکہ ہمیں مال کمانے کی آرزو ۔ جو اسلام ہمیں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اور اولیائے کرام کی بے شمار قربانیوں کے بعد نصیب ہوا ہے ، افسوس صد افسوس ! اس کی ترقی واشاعت کی ہمیں بالکل فکر نہیں۔ آج مسلمان ترکِ نماز اور دیگر گناہوں پر دلیر ہوچکا ہے ، مسجدیں ویران اور گناہوں کے اڈے آباد ہیں ، ہر طرف غفلت کا دور دورا ہے ۔
پیارے بھائی! عنقریب ہمیں بھی مرنا ہے ، اندھیری قبر میں اترنا ہے اور اپنی کرنی کا پھل بھگتنا ہے ۔ قبر کی ہولناک تاریکی اور قیامت کا دہشت ناک منظر ،یہ بھلانے والی باتیں نہیں ہیں ۔ سرکار صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم کے بعداب کسی کو نبوت نہیں ملے گی ، اب ہم غلامان ِ مصطفی صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم کواپنی اور ساری دنیا کے لوگوں کی اصلاح کی کوشش کرنی ہے اور اس کا مؤثر ترین ذریعہ عاشقانِ رسول کے مدنی قافلوں میں سفر کرنا ہے ۔ اس کے لئے وقت ، مال اور جان کی قربانی پیش کرنا اور تکالیف پر صبر کرنا ،یہ سب عظیم سنتیں ہیں۔ مدنی قافلوں میں علمِ دین حاصل ہوتا ہے اور علمِ دین کی