Brailvi Books

رَہنمائے جدول
115 - 248
(۲)راہِ خدا عزوجل میں قربانیاں
    اَلْحَمْدُلِلّٰہ عَزَّوَجَلَّ ! یہ ہماری خوش قسمتی ہے کہ ہم مسلمان ہیں۔ ذرا غور کیجئے کہ جس اسلام کا نور ہمیں گھر بیٹھے نصیب ہوگیا اس کو پھیلانے کے لئے ہمارے پیارے پیارے آقا صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم نے کتنی تکالیف اٹھائیں۔ کفّارِ بداطور آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم کو بے حد ستاتے ، برا بھلا کہتے ، آپ کی راہوں میں کانٹے بچھاتے ،

کبھی سجدے کی حالت میں آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم کی پشتِ اطہر پر اونٹ کی اوجھڑی رکھ دیتے تو کبھی آپ کے مبارک گلے میں چادر کا پٹہ ڈال کر اس زور سے کھینچتے کہ آنکھیں اُبل آتیں ۔ جب آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم دعوتِ اسلام کے لئے طائف تشریف لے گئے تو کفّار ناہنجار نے گالیاں دیں، مذاق اڑایا اور پتھراؤتک کیا جس سے جسمِ نازنین لہولہان ہوگیا اور نعلین خون سے بھر گئیں ۔ جب سرکار صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلمبے قرار ہوکر بیٹھ جاتے تو کفّار جفاکار بازو تھام کر اٹھا دیتے ۔ جب آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلمدوبارہ چلنے لگتے تو وہ پھر سے پتھر برسانے لگتے ۔ مصطفی جان ِرحمت صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلمنے ہمت نہ ہاری اور مسلسل کوشش جاری رکھی ، بالآخر یہ کوششیں رنگ لائیں اور اسلام کی روشنی چاروں اطرافِ عالم میں پھیل گئی ۔

    آپ نے دیکھا کہ سرکارِ دوعالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلمنے کس قدرمحنت و مشقت سے اسلام کی دعوت دی اور صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم اور اولیائے کرام رحمۃ اللہ علیھم نے بھی پیغامِ اسلام کو عام کرنے کے لئے دنیا بھر میں سفر اختیار کیا ۔ انہوں نے اسلام کی خاطر راہِ خدا عزوجل میں اپنی جانیں تک قربان کیں ۔ ان نفوس ِ قدسیہ کی
Flag Counter