(۱۸) رفیق سفر تمام سفر اکٹھا کریں فضول گوئی سے مکمل اجتناب کریں بلکہ سنتیں اور دعائیں یاد کروائیں۔
(۱۹) اگر سفر میں تھکاوٹ یا غنودگی طاری ہو تو گفتگو کے بجائے آرام کریں۔
(۲۰)الگ الگ بیٹھیں ہوں تو برابر میں بیٹھنے والے سے حسن اخلاق کے ساتھ بات چیت شروع کريں، ''دعوت اسلامی'' کا تعارف کرانے کے بعد مدنی قافلے کی دعوت پیش کریں۔
(۲۱) اگر کوئی سوال یا تنقید کرے تو خاموش رہیں مناسب خیال فرمائیں تو امیر قافلہ سے ملاقات کرادیں۔
(۲۲) تمام اسلامی بھائی اپنے سامان کی خود حفاظت کریں اور خود اٹھائیں۔
(۲۳) چلتی بس یا گاڑی میں سوار ہونے اور اترنے سے گریز کریں۔
(۲۴) جب بس میں سوار ہوں تو سلام کریں اور جہاں جگہ مل جائے تشریف رکھیں ، ملاقات کریں حال احوال پوچھیں۔
(۲۵) کسی سے کسی موضوع پر بھی بحث نہ کریں ، بلکہ اگر کوئی کرے تو کہیں میں ادنیٰ ساطالب علم ہوں آپ علماء کرام سے رجوع کریں۔
(۲۶) جب مطلوبہ علاقہ آجائے تو امیر قافلہ کی اجازت سے انتہائی نظم و ضبط سے اتریں۔ بازار میں نگاہیں نیچی کئے ہوئے گزریں نگاہیں نیچی رکھنا سرکار دوعالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم کی سنت کریمہ ہے ۔ اپنی نظروں کی حفاظت کریں۔
(۲۷) آپس میں ''مجھے اپنی اصلاح کی کوشش(مدنی انعامات پر عمل کر کے ) اور ساری دنیا کے لوگوں کی اصلاح کی کوشش (مدنی قافلوں میں سفر کرکے) کرنی ہے۔'' اس کے بارے