(۵) امیر قافلہ روانگی سے قبل ہی مناسب اخراجات جمع کرکے لکھ لے تاکہ قافلے کی واپسی پر باآسانی حساب ہوسکے۔
(۶) روانگی سے قبل تمام اسلامی بھائی دورکعت نماز ادا کریں بشرطیکہ مکروہ وقت نہ ہو۔
(۷) پھر دعا کرکے روانہ ہوں ، دعا امیر قافلہ کرائے۔
(۸) امیر قافلہ ہر دو اسلامی بھائیوں کو آپس میں رفیق بنادے۔
(۹) رفیق جان پہچان والے یا دوستی والے نہ ہوں بلکہ ایک نئے اور ایک پرانے کو رفیق بنایا جائے۔
(۱۰) اب ہر اسلامی بھائی اپنا اپنا سامان خود اٹھائے اور اپنے اپنے رفیق کے ساتھ چلیں۔ منتشر ہوکر چلنے کے بجائے دو دو کی قطار میں چلیں ، تسبیح وغیرہ پر درود شریف پڑھتے رہیں یا آپس میں صرف اور صرف سنتوں کی خدمت ، اپنی اصلاح اور ساری دنیا کے لوگوں کی اصلاح کی کوشش کرنے کا ذہن بنائیں۔
(۱۱) جس سواری میں سفر کرنا ہے۔ مثلاً ٹرین یا بس اس کی معلومات پہلے سے لے لیں اور وقت وغیرہ بھی معلوم کرلیں اور پھر جس پر آسانی ہو اس سواری پر سفر فرمائیں۔
(۱۲) جہاں کہیں ٹھہریں تو ایک ساتھ ٹھہریں منتشر ہو کر نہ ٹھہریں۔
(۱۳) اسی طرح سواری پر امیر قافلہ کی اجازت سے سوارہوں۔
(۱۴) سواری پر ہمیشہ صبر وتحمل سے سوار ہوں ، دھکم پیل سے گریز کریں۔
(۱۵) امیر قافلہ سب کوسوار کرنے کے بعد سوار ہو۔
(۱۶) امیر قافلہ خود دعا پڑھائے یا شرکاء میں سے کسی کوپڑھانے کی اجازت دے۔
(۱۷) بے وقوفوں کی طرح بس میں شور نہ مچائیں اور نہ بس کی کھڑکیاں بجائیں۔