Brailvi Books

راہِ علم
99 - 109
نے مجھے گناہوں سے اجتناب کرنے کی ہدایت کی ۔
        فَاِنَّ الْحِفْظ َ فَضْلٌ مِنْ اِلٰھِی 

     وَفَضْلُ اللہِ لاَ یُھْدَی لِعَاصِی
ترجمہ:بے شک قوت حافظہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک فضل ہے اوراللہ تعالیٰ کا یہ فضل(قوت حافظہ) گنا ہوں کا عادی نہیں پا سکتا۔
    اسی طرح مسواک کرنا، شہد کا استعمال رکھنا، گوند بمع شکر استعمال کرنا ، نہار منہ 21دانے کشمش کھانا بھی حافظے کو قوی کرتاہے اورانسان کو بہت سے امراض سے شفا دیتاہے ،۔ نیز ان چیزوں کو کھانا بھی قوت حافظہ کو قوی کرتاہے جو کہ بلغم اور دیگر رطوبات کو کم کرتیں ہیں۔
    وہ چیزیں جو نسیان پیداکرتی ہیں ان میں کثرت سے گناہ کرنا، دنیاوی امور میں ہر وقت مغموم ومتفکر رہنا ، غیر ضروری چیزوں میں مشغولیت رکھنا ، دنیاسے محبت رکھنا، بلغم پیدا کرنے والی اشیاء کا استعما ل کرناخاص طور پر قابل ذکر ہیں ۔
    ہم پہلے بھی ذکر کر چکے ہیں کہ طالب علم کے لئے مناسب نہیں ہے کہ وہ دنیاوی امور کے بارے میں فکر وغم کرے کیونکہ دنیاوی امور کی فکر کرنا سراسر نقصان دہ ہے اور اس کا کوئی فائدہ نہیں کیونکہ فکر دنیا دل کی سیاہی کا موجب ہوتی ہے ،جبکہ فکر آخرت تو نور قلب کا باعث ہوتی ہے ۔ اوراس نور کا اثر نماز میں ظاہر ہوتاہے کہ دنیا کا غم اسے خیر سے منع کررہا ہوتاہے جبکہ آخرت کی فکر اس کو کار خیر کی طرف ابھاررہی ہوتی ہے ۔ یہ بھی یاد رہے کہ نماز کو خشوع وخضوع کے ساتھ ادا کرنا اور تحصیل علم میں لگے رہنا فکر وغم کو دور کردیتاہے ۔
Flag Counter