Brailvi Books

راہِ علم
95 - 109
دعاؤں کو غنیمت سمجھے اورمظلوم کی بددعا سے ہمیشہ اپنے آپ کو بچائے ۔
    منقول ہے دو طالب علم ، طلب علم کیلئے پردیس گئے ۔ دوسال تک دونوں ہم سبق رہے دو سال کے بعد جب وہ اپنے شہر واپس لوٹے تو ان میں سے ایک تو فقیہ بن چکا تھا جبکہ دوسرا علم وکمال سے خالی تھا ۔ اس شہر کے علماء اورفقہاء نے اس بارے میں خوب غوروخوض کیا اورانہوں نے ان دونوں کے حصول علم کے طریقۂ کار،انداز تکرار اور بیٹھنے کے اطوار وغیرہ کے بارے میں تحقیق کی تو انہیں پتا چلا کہ وہ شخص جو فقیہ بن کر آیا تھا اس کا معمول تھاکہ وہ دوران تکرار قبلہ رو ہوکر بیٹھا کرتاتھا،جبکہ وہ شخص جو علم وکمال سے عاری تھا، وہ قبلہ کی طرف پیٹھ کر کے بیٹھا کرتا تھا۔ اس کے بعد تمام فقہاء اورعلماء اس بات پرمتفق ہوئے کہ یہ شخص استقبال قبلہ کی برکت سے فقیہ بنا کیونکہ بیٹھتے وقت قبلہ رو ہوکر بیٹھنا سنت ہے ۔ نیز یہ بھی ہوسکتاہے کہ یہ مسلمانوں کی دعاؤں کا اثرہوکہ کوئی بھی شہر متقی اورپرہیزگارلوگوں سے خالی نہیں ہوتا ، ہوسکتاہے کہ ان نیک بندوں میں سے کسی نے ا س طالب علم کے لیے دعا کی ہو لہذا ایک طالب علم کے لیے ضروری ہے کہ آداب وسنن کے بارے میں سستی سے کام نہ لے کیونکہ جو شخص آداب میں سستی کرتاہے سنتوں سے محروم ہوجاتاہے ۔ جو سنتوں کے معاملہ میں سستی سے کام لیتاہے ،اندیشہ ہے کہ وہ فرائض سے محروم ہوجائے اور جو بدنصیب فرائض میں سستی کرتاہے وہ آخرت میں محروم رہ جاتاہے ۔ اس لئے ایک طالب علم کو چاہیے کہ کثرت سے نوافل پڑھا کرے اورنماز پڑھتے وقت خشوع وخضوع کا لحاظ رکھے کیونکہ یہ چیزیں اس کیلئے تحصیل علم میں معاون ثابت ہوں گی۔
شیخ جلیل نجم الدین عمر بن محمد نسفی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ اپنے اشعار میں فرماتے ہیں :
Flag Counter