Brailvi Books

راہِ علم
94 - 109
    منقول ہے کہ امام جلیل حضرت محمد بن فضل رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے دوران تعلیم کبھی بھی بازار سے کھانانہیں کھایا ان کے والد صاحب گاؤں میں رہا کرتے تھے،اور وہ ہر جمعہ کو ان کے ليے کھانا تیار کرکے لے آتے تھے ۔ایک مرتبہ جب وہ کھانا تیار کر کے لے کر آئے تو انھوں نے ان کے کمرے میں بازار کی روٹی رکھی دیکھی،یہ دیکھتے ہی غصے سے لا ل پیلے ہو گئے اور اپنے لڑکے سے بات تک نہیں کی۔ صاحبزادے نے معذرت کرتے ہوئے عرض کی کہ یہ روٹی بازار سے میں خرید کر نہیں لایاہوں بلکہ میرا رفیق میری رضا مندی کے بغیر خرید کر لایا تھا۔ان کے والدصاحب نے یہ سن کر ان کو ڈانٹتے ہوئے فرمایا:اگر تمھارے اندر تقوی وپرہیز گاری کی صفت ہوتی تو تمہارے دوست کو بھی یہ جرأت کبھی نہ ہوتی ۔یہ عالَم ہوتا ہے ہمارے بزرگان دین کے تقوی کا،تبھی تو یہ نفوس قدسیہ ہر دم علم کی نشر واشاعت میں مصروف عمل رہے، انکی انہی کاوشوں کی وجہ سے انکا نام قیامت تک باقی رہے گا۔
    ایک فقیہ زاہد نے ایک مرتبہ ایک طالب علم کو وصیت کرتے ہوئے فرمایا کہ تجھ پر لازم ہے کہ غیبت سے بچتے رہو اورباتونی طلبہ کے ساتھ بیٹھنے سے پرہیز کرو کیونکہ جو فضول کلام زیادہ کرتاہے ،وہ یقیناتیری عمر کو برباد اورتیرے اوقات کو ضائع کردے گا۔
    نیز پرہیزگاری کے کاموں میں سے ایک یہ بھی ہے کہ جھگڑالو ،عصیاں شعار اوربے کار افراد کی صحبت سے بچا جائے اورنیک لوگوں کی صحبت کو اختیار کیا جائے کہ صحبت ایک دن ضروررنگ لے آتی ہے ۔ اسی طرح ایک طالب علم کو چاہیے کہ ہمیشہ قبلہ رو بیٹھے اورسرکار صلی اللہ تعالیٰ علیہ و اٰلہ وسلم کی سنتوں پر سختی سے عمل کرے ۔ لوگوں کی
Flag Counter