Brailvi Books

راہِ علم
93 - 109
دوران تعلیم اہمیتِ پرہیز گاری کا بیان
    بعض بزرگ رحمۃ اللہ علیہم اس موضوع پر حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم سے ایک حدیث نقل کرتے ہیں کہ حضور اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
مَنْ لَمْ یَتَوَرَّعَ فِی تَعَلُّمِہِ ابْتَلاَہُ اللہُ تَعَالیٰ بِاَحَدِثَلاَثَۃِ اَشْیَاءٍ اِمَّا اَنْ یُمِیْتَہُ فِی

شَبَابِہٖ اَوْ یُوْقِعَہٖ فِی الرَّسَاتِیْقِ اَوْ یَبْتَلِیَہ، بِخِدْمَۃِ السُّلْطَانِ ۔
ترجمہ:جو طالب علمی کے زمانے میں پرہیزگاری اختیارنہیں کرتااللہ تعالیٰ اسے تین اشیاء میں سے کسی ایک میں مبتلا فرمادیتاہے یا تو اسے جوانی میں موت دیتاہے یا پھر وہ باوجود علم ہونے کے قریہ بہ قریہ مارامارا پھرتاہے یا پھر وہ ساری عمر حکمرانوں کی غلامی کرتا رہتاہے ۔
    الغرض طالب علم جتنا زیادہ پرہیزگار ہوتاہے اس کا علم بھی اسی قدر نفع بخش ہوتاہے اوراسی قدر اس کیلئے علم کا حصول آسان ہوجاتاہے اوراس علم کے ثمرات وفوائد بھی خوب ظاہر ہوتے ہیں ۔ ایک طالب علم کے لیے سب سے بڑی پرہیزگاری کی بات تو یہ ہے کہ اسے کثرت طعام ، کثرتِ منام اورکثرتِ کلام سے اجتناب کرنا چاہیے ۔ نیز ایک طالب علم کو اگر ممکن ہوتو غیر مفید اوربازاری کھانے سے بھی پرہیز کرناچاہیے کیونکہ بازاری کھانا انسان کو خیانت وگندگی کے قریب اور اللہ عزوجل کے ذکر سے دور کردیتاہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ بازار کے کھانوں پر غربااورفقراء کی نظریں بھی پڑتیں ہیں اور وہ اپنی غربت وافلاس کی بناء پر جب اس کھانے کو نہیں خریدسکتے تو وہ دل آزردہ ہوجاتے ہیں اوریوں اس کھانے سے برکت اٹھ جاتی ہے ۔
Flag Counter