Brailvi Books

راہِ علم
91 - 109
استاد محترم صاحب ہدایہ شیخ الاسلام برہان الدین رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ عاجزاً اسی بات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ میں نے بہت سے بزرگوں کا زمانہ پایا مگر افسوس کہ میں ان سے استفادہ نہ کرسکا۔
    استفادہ خیر کے فوت ہونے پر میں نے بھی یہ شعر لکھا ہے
        لَھَفِی عَلیٰ فَوْتِ التَّلاَقِی لَھْفًا 

        مَاکُلُّ مَافَاتَ وَیَفْنَی ویُلْفَی
ترجمہ:افسوس!بزرگوں کی صحبت کے چھوٹ جانے پر صدافسوس!ہر وہ چیز جو ختم ہوجائے وہ پھر نہیں ملتی ۔
    حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ :
    جب کسی کام میں لگ جاؤ تو پھر اس میں ایسے مگن ہو جاؤ کہ بس ہر وقت اسی کے حصول میں کوشاں رہو۔ دنیا وآخرت کی رسوائی کے لیے علم دین سے اعراض کرنا ہی کافی ہے ، لہذا دن رات اس بات سے اللہ عزوجل کی پناہ مانگنی چاہیے ۔
    ایک طالبِ علم کو راہِ علم دین میں آنے والے مصائب اورذلتوں کو بھی خندہ پیشانی سے برداشت کرنا چاہیے ۔ خوشامد وچاپلوسی بے شک ایک مذموم چیز ہے، لیکن اگر طلب علم کے لیے خوشامد سے کام لینا پڑے تو کوئی حرج نہیں کہ بعض اوقات طالب علم کو اپنے اساتذہ وشرکاء کی خوشامد بھی کرنی پڑتی ہے ۔
    کہا جاتاہے کہ :
اَلْعِلْمُ عِزٌّ لاَذُلَّ فِیْہِ ، وَلاَ یُدْرَکُ اِلاَّ بِذُلٍّ لاَعِزَّفِیْہِ
ترجمہ:علم ایک ایسی عزت ہے کہ جس میں کوئی ذلت نہیں اورہر عزت ذلت اٹھانے
Flag Counter