علم تو وہی ہے جو اہل علم کی زبانوں سے سن کر حاصل کیا گیا ہو کیونکہ وہ علم ان کی زندگی کا نچوڑ ہوتاہے، وہ اس طرح کہ وہ جو کچھ سنتے ہیں اس میں سے احسن اورعمدہ محفوظ کرلیتے ہیں اور وہ جو باتیں محفوظ کیے ہوئے ہیں وہ سب عمدہ اوربہتر ہی ہوتیں ہیں جسے وہ بیان کرتے ہیں۔
میں نے شیخ الاسلام زین الاسلام عرف ادیب مختار رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ سے سنا کہ انہوں نے فرمایا کہ حضر ت ہلال بن یسار رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ انہوں نے سرکار صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم کو دیکھا کہ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو علم وحکمت کی باتیں سکھار ہے ہیں ،پس میں نے عرض کیا یا رسول اللہ عزوجل و صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم آپ نے جو کچھ ان صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو سکھا یاوہ مجھے بھی سکھا دیجئے ۔ سرکار صلی اللہ تعالیٰ