Brailvi Books

راہِ علم
88 - 109
    ایک اور شاعرکہتاہے :
         تَنَحَّ عَنِ الْقَبِیْحِ وَلاَ تُرِدْہُ 

         وَمَنْ أَوْلَیْتَہ، حَسَنًا فَزِدْہ،
ترجمہ:ہر وقت برائیوں میں لگے رہنے کے بجائے ان سے کنارہ کشی اختیار کرو اور جن سے بھلائی کا ارادہ کرو تو پھر اس کے ساتھ خوب بھلائی کرو۔
         سَتُکْفَی مِنْ عَدُوِّکَ کُلَّ کَیْدٍ 

         اِذَا کَادَ الْعَدُوُّ فَلَا تُکِدْہ،
ترجمہ:تم اپنے دشمن کی ہرقسم کی مکاریوں سے نجات پا جاؤ گے بشرطیکہ جب تمہارا دشمن مکاری سے کام لے تو تم اس کے ساتھ مکاری سے پیش نہ آؤ۔
    شیخ الاسلام ابوالفتح بُستی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں :
         ذُوا لْعَقْلِ لاَیَسْلَمُ مِنْ جَاہِلٍ 

         یَسُوْمُہُ ظُلْمًا وَاِعْنَاتَا
ترجمہ:ایک ذی عقل کسی جاہل کے شر سے محفوظ نہیں رہ سکتا بلکہ جاہل اس پر ظلم وزیادتی کے منصوبے بناتا رہتاہے ۔
         فَلْیَخْتَرِ السِّلْمَ عَلیٰ حَرْبِہِ 

         وَلْیَلْزِمِ الاْنْصَاتَ اِنْ صَاتَا
ترجمہ:ایک اچھے انسان کو تو لڑائی جھگڑے کے بجائے صلح وصفائی کو اختیار کرناچاہیے اوراسے دشمن کی للکارپر بھی سکوت ہی سے کام لینا چاہیے ۔
Flag Counter