ترجمہ:میں نے بہت سی کڑوی اشیاء کو چکھا اوراس نتیجہ پر پہنچا کہ کسی کے آگے سوال کرنے سے زیادہ کوئی اورچیز تلخ نہیں ۔
اے عزیزطالب علم !خبردار کبھی بھی مسلمانوں کے متعلق بدگمانی مت رکھنا ، کیونکہ بدگمانی سے عداوت پیداہوتی ہے اوریہ ایک حرام فعل ہے ۔ سرکار دو عالم، نورمجسم صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم نے ارشادفرمایا :
ظُنُّوْا بِالْمُؤْمِنِیْنَ خَیْرًا
(المعجم الکبیر،الحدیث۲۳۹،ج۲۳،ص۱۵۶)
ترجمہ:مسلمانوں سے اچھا گمان رکھو۔
گندی ذہنیت اوربدنیتی سے بدگمانی پیداہوتی ہے ،جیسا کہ ابو طیب نے کہا:
اِذَا سَاءَ فِعْلُ الْمَرْءِ سَاءَ تْ ظُنُوْنُہ،
وَصَدَّقَ مَا یَعْتَادُہٗ مِنْ تَوَھُّمِترجمہ:جب بندہ برے اعمال کرتاہے تو اس کے خیالات بھی گندے ہوجاتے ہیں حتی کہ وہ ذہن میں آنے والے اوہام کو بھی سچ گرداننے لگتاہے ۔
وَعَادَی مُحِبِّیْہِ بِقَوْلِ عُدَاتِہِ
وَاَصْبَحَ فِی لَیْلٍ مِنَ الشَّکِّ مُظْلِمِترجمہ:یہ شخص دشمنوں کی بدولت اپنوں کا بھی دشمن ہوجاتاہے اوراس کے روشن دن بھی شک وشبہات کی تاریکیوں میں بسر ہوتے ہیں ۔