Brailvi Books

راہِ علم
86 - 109
کیونکہ جو علم وفضل میں اعلیٰ مقام حاصل کر لیتا ہے، اس کے حاسدین خود ہی جل کر راکھ ہوجاتے ہیں ۔
    اے عزیزطالب علم !
    تمہیں چاہیے کہ اپنے کام میں لگے رہو اور اپنے دشمن کو زیر کرنے کی فکریں چھوڑدو کہ جب تم اپنے کام میں دھیان دو گے اوراعلیٰ مقام حاصل کرلوگے تو تمہارا دشمن خود ہی زیرہوجائے گا اور تمہیں خواہ مخواہ کی دشمنی مول لینے سے بچنا چاہیے، ورنہ یہ دشمنی تمہیں ذلیل کر کے رکھ دے گی اورتمہارے قیمتی اوقات بھی ضائع کر دے گی ۔ تمہیں تو صبر وتحمل سے کام لینا چاہیے خصوصاً احمق لوگوں کی باتوں پر ضرور تحمل کا مظاہرہ کرنا چاہیے ۔ حضرت عیسی بن مریم علی نبینا وعلیہ السلام کا فرمان ہے کہ :
اِحْتَمِلُوْا مِنَ السَّفِیْہِ وَاحِدَۃً کَیْ تَرْبَحُوْا عَشْرًا
ترجمہ:احمق کی باتوں پر ایک بار صبر وتحمل اختیار کرو تاکہ دس گنازیادہ ثواب پاسکو۔
    ایک شاعر کہتاہے کہ :
         بَلَوْتُ النَّاسَ قَرْناً بَعْدَ قَرْنٍ 

         فَلَمْ اَرَغَیْرَ خَتَّال ٍ وَقَالِیْ
ترجمہ:میں نے صدیوں پیچھے تک لوگوں کو کھنگال مارا، لیکن انکو متکبر اورکینہ پرور کے علاوہ کچھ نہ پایا۔
         وَلَمْ اَرَفِی الْخُطُوْبِ اَشَدَّ وَقْعًا 

         وَأَصْعَبَ مِنْ مُعَادَاۃِ الرِّجَالِ
ترجمہ:میں نے بڑے بڑے کاموں میں سب سے زیادہ وقوع پذیر ، دشوارگزاراور
Flag Counter