Brailvi Books

راہِ علم
85 - 109
اَلْمُحْسِنُ سَیُجْزَی بِاِحْسَانِہٖ وَالْمُسِیءُ سَتَکْفِیْہِ مَسَاوِیْہِ
ترجمہ: بھلائی کرنے والے کو ایک نہ ایک دن احسان کا بدلہ ضرور ملے گا جبکہ برائی کرنے والے کو تو جزا میں اس کی برائیاں ہی کافی ہیں۔
    رکن الاسلام محمد بن ابی بکر عرف مفتی خواہر زادہ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں کہ سلطان الشریعہ یوسف ہمدانی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں کہ :
        لاَتَجْزِ اِنْسَاناً عَلیٰ سُوْءِ فِعْلِہٖ 

        سَیَکْفِیْہِ مَا فِیْہِ وَمَا ھُوَ فَاعِلُہٗ
ترجمہ:تجھے کسی انسان کواس کے برے عمل کی سزاد ینے کی ضرورت نہیں بلکہ اس کے برے کرتوت ہی اس کے لیے کافی ہيں ۔
    بزرگان دین فرماتے ہیں کہ جس کے دل میں دشمن کو زیر کرنے کا طوفان برپا ہو،اسے چاہیے کہ مذکورہ شعر کو بار بار پڑھے ۔
    ایک شاعر کہتاہے :
اِذَا شِئْتَ اَنْ تُلْقِی عَدُوَّکَ رَاغِمًا

وَتَقْتُلَہٗ غَمًّا وتَحْرِقَۃُ ھَمًّا
ترجمہ:اگرتم یہ چاہتے ہوکہ اپنے دشمن کی ناک خاک میں ملا دو اوراسے رنج وغم کی آگ میں جلا مارو۔
         فَرُمْ لِلْعُلاَ وَازْدَدْ مِنَ الْعِلْمِ اِنَّہ، 

         مَنِ ازْادَادَ عِلْماً زَادَحَاسِدُہٗ غَمًّا
ترجمہ:پھر تمہیں چاہیے کہ بلندیوں پر نظر رکھتے ہوئے تحصیل علم میں آگے سے آگے نکل جاؤ
Flag Counter