Brailvi Books

راہِ علم
84 - 109
شفقت ونصیحت کی اہمیت وفضیلت کابیان
    ایک طالب علم کو نہایت مشفق ہوناچاہیے اورلوگوں سے حسد کرنے کے بجائے ان کو نصیحت کرنی چاہیے کیونکہ حسد کرنا کسی کو کوئی فائدہ نہیں پہنچا سکتا بلکہ ہمیشہ نقصان ہی پہنچاتا ہے ۔ شیخ الاسلام امام برہان الدین رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں کہ اکثر ایک عالم کا بیٹا بھی عالم ہی بنتا ہے ،اس کی وجہ یہ ہوتی ہے کہ ایک عالم کی یہ سوچ ہواکرتی ہے کہ اس کے شاگرد بھی علماء بنیں ۔ پس دوسروں سے حسن اعتقاد اورشفقت کرنے کی برکت سے خود اس کا لڑکا بھی ایک دن ضرورعالم بنتاہے ۔
    منقول ہے کہ صدر اجل برہان الآئمہ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے دیگر طلبہ سے فراغت کے بعد اپنے دونوں بیٹوں صد رِشہید حسام الدین اورصدرِ سعید تاج الدین رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہما کو پڑھانے کے لیے دوپہر کا وقت مقرر کیا ہوا تھا ایک دن ان دونوں نے شکوہ کیا کہ دوپہر کے وقت طبیعت جلد ہی اکتا جاتی ہے اورتھکاوٹ ہوجاتی ہے لہذا آپ پہلے ہمیں پڑھا دیا کریں ۔ یہ سن کر آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے ارشاد فرمایا:یہ طلبہ جو کہ مسافر بھی ہیں دنیا کے مختلف حصوں سے میرے پاس علم حاصل کرنے کے ليے آئے ہیں لہذا پہلے ان کو پڑھانا ضروری ہے ۔ پس دیگر طلبہ پر شفقت کے باعث ان کے دونوں لڑکوں نے وہ مقام حاصل کیا کہ یہ دونوں اپنے زمانے کے بیشتر فقہاء پر فوقیت لے گئے ۔
    ایک طالب علم کو لڑائی جھگڑے سے بھی گریز کرنا چاہیے کیونکہ جھگڑا اورفساد وقت کو ضائع کر کے رکھ دیتاہے ۔ ایک دانا کا قول ہے کہ :
Flag Counter