Brailvi Books

راہِ علم
82 - 109
بدنصیب علم سے گھڑی بھر کیلئے دو رہونا چاہتاہے تو اسے ڈرناچاہیے کہ کہیں وقت اس سے منہ نہ موڑلے کیونکہ طلب علم میں کچا ارادہ ثمر خیز نہیں ہوتا۔
    ایک فقیہ، امام ابویوسف رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کی موت کے وقت ان کی عیادت کے لئے حاضر ہوئے درآں حالیکہ آپ پر جان کنی کی کیفیت طاری تھی ۔ امام ابو یوسف رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے اہمیت علم جتانے کیلئے ان سے پوچھا کہ رمی جمار کرنا سوار ہوکر افضل ہے یا پیدل ؟ جب ان سے کوئی جواب نہ بن پڑا تو امام ابو یوسف رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے خود ہی اس کا جواب دیا۔ لہذا ایک فقیہ کیلئے ضروری ہے کہ وہ تمام وقت تحصیل فقہ میں مشغول رہے، تب ہی کہیں جاکر اس کو لذت علم محسوس ہوگی۔
کسی نے امام محمد رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کو خواب میں دیکھ کر پوچھا
کَیْفَ کُنْتَ فِی حَالِ النَّزْعِ
آپ نے حالت نزع کو کیسا پایا ؟آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے ارشاد فرمایا کہ میں اس وقت مُکاتَب غلام کے متعلق فکر وتأمل میں کھویا ہوا تھا مجھے تو پتا ہی نہیں چلا کہ میری روح کب نکلی ۔
    کہا جاتاہے کہ امام محمد رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے اپنی عمر کے آخری وقت میں فرمایا کہ مجھے مکاتب غلام کے مسائل نے اس قد رمشغول رکھا کہ مجھ سے اس دن کیلئے کوئی تیاری نہیں ہوسکی ۔ بہر حال یہ تو امام محمدرحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کی عاجزی تھی (مگر ان واقعات سے آپ کی علمی مصروفیات کا اندازہ بخوبی لگایا جاسکتاہے ۔)
Flag Counter