Brailvi Books

راہِ علم
81 - 109
کرتے تھے ۔
    جب ایک طالب علم راہ علم میں سفر اختیار کرے تو پھر اس راہ میں آنے والی ہر تکلیف کو خندہ پیشانی سے برداشت کرنا چاہیے کہ حضر ت موسیٰ علیہ السلام سفرِ علم ہی کی تکالیف کے بارے میں فرماتے ہیں :
لَقَدْ لَقِیْنَا مِنْ سَفَرِنَا ھَذَانَصَبًا۔
ترجمہ کنزالایمان : بے شک ہمیں اپنے اس سفرمیں بڑی مشقت کا سامنا ہوا۔(پ15،الکہف:62)
    آپ علیہ السلام نے اپنی زندگی میں اوربہت سے سفر کیے مگر آپ نے کسی سفر کے متعلق اظہار مشقت نہیں فرمایا بلکہ سفر علم ہی کے متعلق اظہار مشقت ہوا کہ معلوم ہوجائے راہ علم تکالیف سے خالی نہیں ۔ چونکہ علم ایک عظیم چیز ہے اوراکثر علماء کے نزدیک جہاد کرنے سے بھی افضل ہے اوراجرو ثواب کا قاعدہ بھی تو یہی ہے کہ جو کام جتنا زیادہ مشکل ہوگا اس کا ثواب اسی قدر زیادہ ہوگا ۔ جو شخص راہ علم دین میں پہنچنے والی تکالیف کو خندہ پیشانی سے برداشت کرتاہے تو پھر وہ ایک ایسی لذت پالیتا ہے جو دنیا بھر کی لذتوں سے زیادہ لذیذ ہوتی ہے ۔
    امام محمدرحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ جب ساری رات جاگتے اورکسی مشکل مسئلہ کو حل کرنے میں کامیاب ہوجاتے تو فرماتے شہزادوں کو بھلا یہ لذت کہاں محسوس ہوسکتی ہے ۔
    ایک طالب علم کے لیے نہایت ضروری ہے کہ وہ طلب علم کے سواء دیگر اشیاء کی طرف بالکل توجہ نہ دے اورعلم فقہ سیکھنے سے اعراض نہ کرے۔ امام محمد رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں کہ تحصیلِ علم کا زمانہ تو مہد سے لے کر لحدتک ہے ۔ اگر کوئی
Flag Counter