Brailvi Books

راہِ علم
80 - 109
کہ تیرا کام تو صرف کھانا اورپہننا ہے ۔
    ایک مرتبہ ایک شخص نے منصور حلاج سے کہا کہ مجھے کوئی وصیت کیجئے تو انہوں نے فرمایا کہ یاد رکھو کہ تمہارا نفس ایک ایسی چیز ہے کہ اگر تم نے اسے نیک کاموں میں مشغول نہ رکھا تو یہ تمہیں اپنی خواہشات کے حصول میں مشغول کردے گا ۔ لہذا ہر کسی کو چاہیے کہ اپنے نفس کو کار خیر میں مصروف رکھے تاکہ وہ اسے خواہشات نفسانیہ میں نہ پھنسا سکے ۔ پس ایک عقل مند کو دنیا کے بارے میں فکر مند نہیں ہونا چاہیے کیونکہ فکر وغم نہ تو کسی مصیبت کو ٹال سکتے ہیں اورنہ ہی کوئی نفع پہنچا سکتے ہیں بلکہ فکر وغم کرنا دل ودماغ اوربدن کے لیے بہت نقصان دہ اور نیک اعمال میں خلل پیدا کرنے والا ہے ۔ بندے کو چاہيے کہ دنیا کا فکر وغم کرنے کے بجائے اپنی آخرت کی فکر کرے کہ یہ فکر بہت فائدہ مند ہے ۔ اورجہاں تک اس حدیث پاک کا تعلق ہے کہ حضور اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
اِنَّ مِنَ الذُّنُوْبِ ذُنُوْبًا لاَ یُکَفِّرُ ھَا اِلاَّ ھَمُّ الْمَعِیْشَۃِ.
        (حلیۃ الاولیاء،الحدیث۸۹۵۹،ج۶،ص۳۶۶)
ترجمہ:بے شک کچھ گناہ ایسے ہوتے ہيں کہ جن کا کفارہ صرف فکر معاش ہی ہے ۔
     تو اس حدیث میں وہ فکر معاش مراد ہے جو کہ اعمال خیر میں مخل نہ ہو نہ ہی ایسی فکر ہو جودل کو اتنا مشغول کردے کہ نماز میں حضور قلب نہ ہوسکے،لہذاایسی فکر معاش یقینا فکر آخرت ہے ۔
    نیز ایک طالب علم کے لیے یہ بھی ضروری ہے کہ وہ جتنا ممکن ہو دنیاوی معاملات سے دور رہے کہ اسی وجہ سے پہلے کے علماء تحصیل علم کے لیے سفر اختیار کیا
Flag Counter