Brailvi Books

راہِ علم
79 - 109
اہمیتِ توکل کا بیان
    ایک طالب علم کو تحصیل علم کے دوران توکل علی اللہ اختیار کرنا بہت ضروری ہے ۔ اسے رزق کے معاملہ میں فکروغم سے بالکل کام نہیں لینا چاہیے اور نہ ہی دلی طور پر اس کے متعلق سوچ بچارکرنا چاہیے ۔
    امام اعظم ابوحنیفہ رضی اللہ عنہ صحابی رسول صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم حضرت عبداللہ بن حسن زبیدی رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم نے ارشاد فرمایا :
مَنْ تَفَقَّہَ فِی دِیْنِ اللہِ کَفَاہُ اللہُ تَعَالیٰ ھَمَّہ، وَرَزَقَہ، مِنْ حَیْثُ لَا یَحْتَسِبُ
    (تاریخ بغداد،محمد بن عمر بن الحسین بن الخطاب،ج۳،ص۲۴۲)
ترجمہ : جو اللہ عزوجل کے دین کے لیے فقہ سیکھتاہے تو اللہ تعالیٰ اس کی ضروریات کا کفیل ہوجاتاہے اور اس کو ایسی جگہ سے رزق فراہم کرتاہے جس کا یہ گمان تک نہیں رکھتا۔
    وہ شخص کہ جس کا دل ہر وقت رزق ، خوراک اورلباس کی فکرہی میں لگا رہتا ہے ایسا شخص مکارم اخلاق اوربلند پایہ امور کے لیے بہت ہی کم وقت نکال سکتاہے ۔ ایک شاعر ایسے شخص کے بارے میں تنقید کرتے ہوئے کہتاہے کہ :
     دَعِ الْمَکَارِمَ لَاتَرْحَلْ لِبُغْیَتِھَا 

         وَاقْعُدْفَاِنَّکَ اَنْتَ الطَّاعِمُ الْکَاسِی
ترجمہ: مکارم الاخلاق کو چھوڑ کہ ان کے لیے سفر کرنے کی کیا ضرورت ہے بس ! بیٹھ جا
Flag Counter