(تاریخ بغداد،محمد بن عمر بن الحسین بن الخطاب،ج۳،ص۲۴۲)
ترجمہ : جو اللہ عزوجل کے دین کے لیے فقہ سیکھتاہے تو اللہ تعالیٰ اس کی ضروریات کا کفیل ہوجاتاہے اور اس کو ایسی جگہ سے رزق فراہم کرتاہے جس کا یہ گمان تک نہیں رکھتا۔
وہ شخص کہ جس کا دل ہر وقت رزق ، خوراک اورلباس کی فکرہی میں لگا رہتا ہے ایسا شخص مکارم اخلاق اوربلند پایہ امور کے لیے بہت ہی کم وقت نکال سکتاہے ۔ ایک شاعر ایسے شخص کے بارے میں تنقید کرتے ہوئے کہتاہے کہ :
دَعِ الْمَکَارِمَ لَاتَرْحَلْ لِبُغْیَتِھَا
وَاقْعُدْفَاِنَّکَ اَنْتَ الطَّاعِمُ الْکَاسِی
ترجمہ: مکارم الاخلاق کو چھوڑ کہ ان کے لیے سفر کرنے کی کیا ضرورت ہے بس ! بیٹھ جا