Brailvi Books

راہِ علم
77 - 109
سبق کا دومرتبہ اورگزشتہ چھٹے روز کا سبق ایک بار روزانہ ضرور تکرار کرے،یہ طریقہ کار علم کو محفوظ رکھنے کا بہترین ذریعہ ہے ۔
    ایک طالب علم کو دل ہی دل میں تکرار کرنے کی عادت نہیں ڈالنی چاہیے بلکہ سبق پڑھتے وقت اورتکرارکرتے وقت چستی وتوانائی سے کام لینا چاہیے لیکن یہ بھی نہ ہوکہ اتنی زور زور سے سبق پڑھا جائے یا تکر ار کی جائے کہ بندہ جلد ہی تھک جائے اورسبق یا دکرنا چھوڑ دے بلکہ
خَیْرُالْاُمُوْرِاَوْسَطُھَا
 (کشف الخفاء ومزیل الالباس، رقم۱۲۴۵،ج۱، ص ۳۴۶)
کے تحت میانہ روی سے کام لینا چاہیے ۔
    حکایت بیان کی جاتی ہے کہ امام ابو یوسف رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ جب فقہاء کرام کے ساتھ علمی مذاکرہ فرمایا کرتے تھے تو خوب چستی اورتوانائی کا مظاہرہ فرماتے تھے اورخوب ہشاش بشاش نظر آتے ۔ایک مرتبہ ان کے داماد بھی ان کے مذاکرہ میں موجود تھے، وہ آپ کو دیکھ کر فرمانے لگے کہ میں حیران ہوں کہ یہ پانچ دن سے بھوکے ہیں لیکن اس کے باوجود اتنے ہشاش بشاش نظر آرہے ہیں۔
    ایک طالب علم کو تحصیل علم کے دوران کبھی رخصت وناغہ بھی نہیں کرنا چاہیے کیونکہ یہ اس کیلئے بہت نقصان دہ ہے ۔
    شیخ الاسلام امام برہان الدین رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرمایاکرتے تھے کہ میں اپنے تمام رفقاء پر صرف اس لیے فوقیت لے گیا کہ میں نے تحصیل علم کے دوران کبھی چھٹی نہیں کی۔
    شیخ الاسلام امام اسبیجانی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کا یہ واقعہ بھی بیان کیا جاتاہے کہ اس زمانہ میں جب وہ طالب علم تھے اورتحصیل علم میں مصروف تھے تو ایک مرتبہ ملک میں
Flag Counter