Brailvi Books

راہِ علم
76 - 109
وہ علم کی عزت وآبروکا پاس رکھ سکتاہے اورنہ ہی وہ کوئی حق بات کہہ سکتاہے ۔ اسی وجہ سے سرکار صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم تعلیم امت کیلئے طمع سے پناہ مانگاکرتے تھے ۔
آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم دعافرمایا کرتے تھے :
اعُوْذُ بِاللہِ مِنْ طَمْعٍ یُدْنِی اِلیٰ طَبْع
 (المسند لامام احمد بن حنبل،حدیث معاذ بن جبل،الحدیث ۲۲۰۸۲،ج۸،ص۲۳۷)
ترجمہ: میں اس حرص سے اللہ عزوجل کی پناہ مانگتاہوں جو عیب دار کردے ۔
    ایک مسلمان کے لیے لازمی ہے کہ اللہ عزوجل کے علاوہ کسی اورسے امید نہ رکھے اورنہ ہی اللہ عزوجل کے علاوہ کسی سے ڈرے ۔ اس بات کا فیصلہ کہ انسان صرف اللہ عزوجل ہی سے امید رکھتاہے اورصرف اللہ عزوجل ہی سے ڈرتا ہے ،تب ہوگا کہ جب یہ دیکھا جائے کہ یہ شخص حد شرع سے تجاوزکرتاہے یا نہیں؟وہ اس طرح کہ بندہ اگر اللہ عزوجل کی نافرمانی مخلوق کے ڈر سے کرتاہے تو پھر یقیناغیر اللہ عزوجل سے ڈرتاہے اوراگر یہ شخص اللہ عزوجل کی نافرمانی مخلوق کے ڈر سے نہیں کرتا اورحد شرع کا بھی لحاظ رکھتاہے تو تب جاکر یہ ثابت ہوگا کہ یہ بندہ غیر اللہ سے نہیں صرف اللہ عزوجل سے ڈرتاہے ۔اور اسی پر قیاس کرتے ہوئے رجاء کا معاملہ ہے ۔
    ایک طالب علم کو چاہیے کہ وہ تکرار کرنے کی تعداد اورمقدار سبق کو متعین کرلے کیونکہ قلب میں علوم اس وقت تک راسخ نہیں ہوسکتے جب تک اسباق کا اچھی طرح تکرار نہ کرلیا جائے ۔
    ایک طالب علم کو چاہیے کہ وہ گزشتہ سبق کا دن میں پانچ بار تکرار کرے جبکہ پرسوں کا سبق چار بارتکرارکرے اورترسوں کا سبق تین مرتبہ اوراس سے پہلے والے
Flag Counter