(المعجم الاوسط،الحدیث۷۷۵۳،ج۵،ص۴۰۳)
ترجمہ : لالچ سے بچو (کہ تم فقر سے بچنے کے لیے طمع کرتے ہومگر )طمع بذات خود فقرِ حاضر ہے ۔
لہذا جس کے پا س مال واسباب ہوں اسے بخل سے کام نہیں لینا چاہیے بلکہ اسے اس مال کو اپنے اوپر اوردوسروں پر خرچ کرتے رہنا چاہیے ۔
حضور اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم نے ارشادفرمایا :
اَلنَّاسُ مِنْ خَوْفِ الْفَقْرِ فِی فَقْرٍ
ترجمہ: لوگ محتاجی کا خوف کرتے کرتے محتاج ہوگئے ۔
پہلے زمانہ میں طلبہ کا یہ طریقہ کارتھا کہ پہلے کوئی کام سیکھتے اوراس کے بعد تحصیل علم کی طر ف متوجہ ہوتے تھے تاکہ لوگوں کے مال کی طرف حرص پیدا نہ ہو۔ ویسے بھی حکمت ودانائی کی ایک بات یہ بھی ہے کہ جو دیگر لوگوں کے مال سے امیر بننا چاہتاہے وہ بجائے امیر بننے کے مفلس وفقیر ہوجاتاہے ۔ اگر کوئی عالم لالچی ہوگاتونہ