| راہِ علم |
حلوانی نے علم کے اعلیٰ مدارج کو طے کیا اوروہ اپنے وقت کے مایہ ناز عالم ثابت ہوئے نیز مالدار حضرات کو چاہيے کہ فقہاء کرام کو کتابیں خرید کر دیں ،نئی کتابوں کی اشاعت کروائیں کہ یہ سب کچھ علم وفقہ کی اشاعت کیلئے نہایت معاون ثابت ہوگا۔
امام محمد بن حسن رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے بارے میں آتاہے کہ آپ اتنے مالدار تھے کہ تین سو افراد آپ کے مال کے حساب وکتاب پر مامور تھے لیکن انہوں نے اپنا سارامال علم وفقہ کی ترویج واشاعت کے لیے خرچ کردیا حتی کہ ان کے پاس کپڑوں کا کوئی عمدہ جوڑا بھی باقی نہ رہا۔
ایک مرتبہ امام ابو یوسف رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے ان کو نہایت پھٹے پرانے کپڑوں میں دیکھاتوآپ نے ان کے لیے ایک عمدہ ساجوڑا بھجوادیا لیکن آپ نے اسے قبول کرنے سے انکارکردیا اورفرمایا کہ کچھ لوگوں کو یہ نعمتیں پہلے دے دی گئیں مگر ہمیں یہ نعمتیں آخرت میں ملیں گی ،باوجود یہ کہ تحفہ قبول کرنا سنت ہے مگر پھر بھی آپ نے اسے قبول نہ کیا۔اسکی ایک وجہ یہ بھی ہوسکتی ہے کہ ا س میں تذلیل نفس کا پہلو نکلتا تھا جو کہ ناجائز ہے کیونکہ سرکار دوعالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم نے ارشاد فرمایا :
لَیْسَ لِلْمُؤْمِنِیْنَ اَنْ یُّذِلَّ نَفْسَہ،
(جامع الترمذی،کتاب الفتن، باب ماجاء فی النھی عن سب الریاح،الحدیث۲۲۶۱،ج۴،ص۱۱۲)
ترجمہ :مومن کے لئے جائز نہیں کہ وہ اپنے نفس کو ذلت میں ڈالے ۔
منقول ہے کہ ایک مرتبہ شیخ فخرالاسلام ارسا بندی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے زمین پر پڑے ہوئے تربوز کے چھلکوں کو جمع فرمایا اوراس کے بعد انہیں دھو کر تناول فرمالیا ۔ قریب ایک لونڈی کھڑی ہوئی یہ سب کچھ دیکھ رہی تھی اس نے جاکر یہ ساراماجرا اپنے