Brailvi Books

راہِ علم
73 - 109
پیارے آقا صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
        مَنْ عَرَفَ نَفْسَہ، عَرَفَ رَبَّہ،
     (کشف الخفاء،الحدیث۲۵۳۰،ج۲،ص۲۳۴)
ترجمہ: جو اپنے آپ کو پہچان لے وہ رب عزوجل کو بھی پہچان لیتاہے ۔
    مطلب یہ کہ جب بندہ خود کوپہچان لیتاہے تو رب عزوجل کی معرفت اسے خود بخود حاصل ہوجاتی ہے ۔ لہذا بندے کوکبھی بھی اپنے آ پ پر اوراپنی عقل پر اعتماد نہیں کرنا چاہیے بلکہ اللہ تعالیٰ ہی پر توکل کرنا چاہیے اور اسی سے حق طلب کرنا چاہیے ، کیونکہ اللہ تعالیٰ قرآن پاک میں ارشادفرماتاہے :
وَمَنْ یَّتَوَکَّلْ عَلَی اللّٰہِ فَھُوَحَسْبُہٗ۔
ترجمہ کنزالایمان: اورجو اللہ(عزوجل) پر بھروسا کرے تو وہ اسے کافی ہے۔(پ28،الطلاق:3)
    اور خداعزوجل اسے سیدھی راہ دکھاتاہے ۔ اگر کوئی مالدار ہے تو اسے بخل سے ہرگز کام نہیں لینا چاہیے بلکہ ہمیشہ بخل سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگنا چاہیے ۔
    حضور اکرم نورمجسم صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم نے ارشاد فرمایا :
     اَیُّ دَاءٍ اَدْوَأُ مِنَ الْبُخْلِ
         (المعجم الکبیر،الحدیث۱۶۳،۱۶۴،ج۱۹،ص۸۱)
ترجمہ: بخل سے بڑھ کر اورکونسی بیماری نقصان دہ ہے۔
    امام شمس الائمہ حلوانی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے والد بہت مفلس اورتنگدست تھے اور مٹھائی بنا کر بیچا کرتے تھے ان کی عادت تھی کہ اکثر وبیشتر فقہاء کرام کو مٹھائیاں وغیرہ بھیجتے رہتے تھے اوران سے عرض کرتے کہ بس میرے بیٹے کیلئے دعا فرمایا کریں۔ ان کی سخاوت ، حسن عقید ت اورگریہ وزاری کا نتیجہ یہ نکلا کہ ان کے بیٹے یعنی شمس الائمہ
Flag Counter