امام اعظم رضی اللہ عنہ کا فرمان ہے بے شک میں نے علم کو حمد وشکر کے سبب ہی حاصل کیا ہے وہ اس طرح کہ جب بھی میں کوئی علمی بات سمجھ لیتا ہوں اور اس کی تہہ تک پہنچ جاتاہوں تو اس کے بعد الحمدللہ ضرورکہتاہوں پس میراعلم بڑھتا چلا گیا۔ لہذا طالب علم کو چاہيے کہ وہ اپنی زبان ، دیگراعضاء اورمال کے ذریعے اظہار تشکر کرتا رہے اورعلم و فہم کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے عطیہ سمجھے اوراللہ تعالیٰ سے ہدایت کی دعا کرتا رہے اور اللہ عزوجل کے حضور دعاوگریہ وزاری کو اپنا معمول بنائے رکھے، بے شک جواللہ عزوجل سے ہدایت طلب کرتاہے اللہ تعالیٰ اسے ضرور ہدایت دیتاہے ، اہل حق (جوکہ اہلسنت وجماعت ہی ہیں )نے اللہ تعالیٰ سے ،جو کہ درحقیقت ہدایت دینے والا اور گمراہی بچانے والا ہے ، ہدایت طلب کی تواللہ تعالیٰ نے انہیں ہدایت عطافرمائی اوران کو گمراہی سے محفوظ فرمادیا جبکہ گمراہ فرقے اپنی رائے وعقل کے گھمنڈ میں مبتلا رہے انہوں نے حق کو ایک مخلوق عاجز یعنی عقل کے ذریعے تلاش کرنا چاہا لہذا وہ گمراہ ہوگئے ۔