کے نام سے پکاراجاتاتھا کیونکہ طالب علموں کی عادت تھی وہ کثرت سے
'' مَا تَقُوْلُ فِی ھٰذِہِ الْمَسْئَلَۃِ''
(آپ اس مسئلہ میں کیا فرماتے ہیں )کہا کرتے تھے ۔
خودا مام اعظم ابو حنیفہ رضی اللہ عنہ اس وجہ سے بہت بڑے فقیہ بنے کہ جب وہ کپڑے بیچا کرتے تھے تو اس وقت بھی اپنی دکان میں بکثر ت علمی مباحثے ومناظرے فرمایا کرتے تھے۔ اس بات سے معلوم ہوا کہ تحصیل علم وفقہ کا کاروبار کے ساتھ جمع ہونا ممکن ہے ۔
حضرت امام ابو حفص کبیررحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کی عادت تھی کہ جب آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کسب معاش کیلئے نکلتے تھے تو کسب کے ساتھ ساتھ تکرار بھی فرمایا کرتے تھے ۔ اگر طالب علم کو اپنے اہل وعیال کی ضروریات کو پورا کرنے کے لئے کام کرنا پڑے تو اسے چاہیے کہ وہ کام کاج بھی کرے اورساتھ ساتھ تکرار بھی کرتا جائے اورعلمی مذاکرہ بھی کرتا رہے اس میں ہرگز سستی نہ کرے ۔ علم وفقہ سیکھنے کے ترک پر ایک سالم البدن اورصحیح العقل کا کوئی عذرقبول نہیں کیا جاسکتا کیونکہ امام ابو یوسف رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ سے زیادہ توکوئی فقیر نہ ہوگا پھر بھی تنگدستی اورفقران کوکبھی تحصیل علم سے نہ روک سکی۔
جس شخص کے پاس بیش بہا مال ہو تو یہ پاکیزہ مال اس مر دکے حق میں کیا ہی اچھاہے جو اسے علم کے راستے میں خرچ کرتاہے ۔ ایک عالم صاحب سے پوچھا گیا کہ