| راہِ علم |
گفتگو کی مثال تیرکی طرح ہے ا س ليے چاہیے کہ منہ سے الفاظ نکالنے سے پہلے سوچ وبچارکرلیا جائے تاکہ بو لے گئے الفاظ بامقصد ثابت ہوں ۔ صاحب اصول الفقہ فرماتے ہیں کہ ایک فقیہ اورمناظر کیلئے تمام چیزوں کی اصل یہ ہے کہ وہ سوچ سمجھ کر کلام کرے اورکسی نے یوں بھی کہا ہے کہ :
رَأْسُ الْعَقْلِ اَنْ یَّکُوْنَ الْکَلَامُ بِالتَّثَبُّتِ وَالتَّأَمُّلِ
ترجمہ: عقل کیلئے اصل یہ ہے کہ بندے کا کلام سوچ سمجھ اور پختگی کے ساتھ ہو ۔
ایک شاعر کہتاہے :
اُوْصِیْکَ فِی نَظْمِ الْکَلَامِ بِخَمْسَۃٍ اِنْ کُنْتَ لِلْمُوْصِی الشَّفِیْقِ مُطِیْعاً
ترجمہ: اگر تو شفیق ناصح کی بات مانے تو میں تجھے طرز گفتگو سے متعلق پانچ چیزیں وصیت کرتاہوں ۔
لَا تُغْفِلَنْ سَبَبَ الْکَلَامِ وَوَقْتَہ، وَالْکَیْفَ وَالْکَمَّ وَالْمَکَانَ جَمِیْعاً
ترجمہ: پس کبھی بھی ان سے غفلت نہ کرنا وہ یہ کہ کلام کرنے سے پہلے ضرورت کا لحاظ وقت گفتگو کا خیال ، طرز گفتگو ،مقدار گفتگو اورمکان یعنی متقضیٰ حال کو پیش نظر رکھ ۔
طالب علم کے لیے ضروری ہے کہ ہمہ وقت کسی نہ کسی سے استفادہ کرتارہے ۔
سرکار مدینہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم کا فرمان عالیشان ہے :
اَلْحِکْمَۃُ ضَالَّۃُ الْمُؤْمِنِ اَیْنَمَا وَجَدَھَاَ اَخَذَھَا
( کنزالعمال،کتاب العلم،الباب الاول،الحدیث ۲۸۷۵۳،ج۵(جزء۱۰)،ص۶۴.
المقاصد الحسنۃ،الحدیث۴۱۵،ص۱۹۷)