لیکن یہ اس وقت ہے جب مناظرہ کسی منصف اورسلیم الطبع آدمی کے ساتھ ہو اورخبردار کسی ذلت پسنداور غیرمستقیم الطبع شخص کے ساتھ مذاکرہ نہیں کرنا چاہیے کیونکہ طبیعت اثر کو قبول کرتی ہے اورخصلتیں متعدی ہوتی ہیں اور صحبت ایک دن ضرور رنگ لے آتی ہے۔
خلیل بن احمد رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کا وہ شعر جس کو ہم نے ماقبل ذکر کیا تھا بہت زیادہ فوائدوثمرات کا حامل ہے ۔
اَلْعِلْمُ مِنْ شَرْطِہٖ لِمَنْ خَدَمَہُ
اَنْ یَّجْعَلَ النَّاسَ کُلُّھُمْ خَدَمَہ،
ترجمہ: علم کی شرائط میں یہ بات شامل ہے کہ جو علم کی خدمت کریگاتو ایک دن تمام لوگ بھی اس کے خادم ہوں گے ۔
طالب علم کیلئے ضروری ہے کہ ہر وقت علمی باریکیوں میں سوچ بچار کرنے کواپنی عادت بنائے رکھے کہ بے شک باریکیاں سوچ بچارہی سے سمجھ میں آئیں گی ۔
ترجمہ: سوچ وبچار کیا کرو خود ہی سمجھ جاؤگے۔
اورگفتگو سے پہلے تو لازمی طور پر غور کر لینا چاہیے تاکہ کلام بامقصد ہوکیونکہ