| راہِ علم |
ترجمہ: پھر ایسا نہ ہو کہ قیامت کے دن تمہیں آگ کی لگام پہنائی جائے اور تم شدید عذاب میں گرفتار ہوجاؤ۔
طالب علم کیلئے ضروری ہے کہ وہ مذاکرہ ، مناظرہ اورعلمی مقابلہ کرتا رہے پس مناسب یہ ہے کہ ان امور کو غور وفکر اورتامل کے ساتھ انجام دے اورغصہ اورہنگامہ آرائی سے اجتناب کرے کیونکہ یہ مناظرہ و مذاکرہ تو ایک طرح علمی مشاورت ہے اورمشاورت تو راہ صواب حاصل کرنے کیلئے ہوتی ہے اور راہ صواب صرف انصاف اورغوروفکر ہی سے حاصل ہوسکتی ہے نہ کہ غصہ اورہنگامہ آرائی کے ذریعے۔ اگرمناظرہ کرتے وقت کسی کی نیت یہ ہوکہ مد مقابل کو زیر کیا جائے تو اس کیلئے مناظرہ کرنا جائز نہیں مناظرہ صرف اظہار حق کے لیے جائز ہے ۔
مناظرہ میں خلاف واقع بات کرنا یا حیلہ وغیرہ کرنا جائز نہیں مگر جب مدمقابل طالب حق نہ ہو بلکہ سرکش ہوتو اس وقت جائز ہے ۔
امام محمد بن یحیٰ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے بارے میں آتا ہے کہ جب ان کے سامنے کوئی مشکل سوال پیش کیا جاتااوران کو جو اب معلوم نہ ہوتا تو یوں فرماتے :
مَااَلْزَمْتَہُ لَازِمٌ وَاَنَافِیْہِ نَاظِرٌ وَفَوْقَ کُلِّ ذِیْ عِلْمٍ عَلِیْمٌ
ترجمہ: تو نے جو کچھ وارد کیا وہ واقعی لازم ہے میں اس میں نظر کروں گا بے شک ہر جاننے والے کے اوپرجاننے والا ہے ۔
مناظرہ اور مطارحہ (علمی مقابلہ)صرف تکرار کرنے کے مقابلے میں زیادہ