جب طالب علم سبق کے سمجھنے میں سستی سے کام لیتاہے اورایک دو مرتبہ بھی سمجھنے کی کوشش نہیں کرتا تو اب یہ اس کی عادت بن جاتی ہے اوراسے آسان ترکلام بھی سمجھ میں نہیں آتا لہذا طالب العلم کو چاہیے کہ سبق کو سمجھنے میں سستی نہ کرے بلکہ محنت سے کام لے اورخدا جل جلالہ سے دعا کرتا اورگڑگڑاتا رہے کہ اللہ تعالیٰ ہر دعا کرنے والے کی دعا قبول کرتاہے اورجو اللہ تعالیٰ سے امیدیں وابستہ رکھے تو وہ مالک بحر وبر اسے مایوس نہیں کرتا۔
اما م اجل قوام الدین ابراہیم بن اسماعیل الصغار رحمۃ اللہ علیہ نے قاضی خلیل بن احمد سجزری رحمۃ اللہ علیہ سے منقول کردہ اشعار ہمیں سنائے ۔
اُخْدُمِ الْعِلْمَ خِدْمَۃ َ الْمُسْتَفِیْدِ
وَاَئَدِمْ دَرْسَہ، بِعَقْلٍ حَمِیْدِ
ترجمہ: علم کی اس طرح خدمت کرو کہ جس طرح اس سے فائدہ حاصل کرنے والا خود محنت سے کام لیتاہے ،اپنے اسباق کو عقل حمید کی مدد سے ہمیشہ ہمیشہ پڑھتے رہو۔
وَاِذَا مَا حَفِظْتَ شَیْئًا اَعِدْہ،
ثُمَّ اَئَکِّدْ ہ، غَایَۃَ التَّاکِیْدِ
ترجمہ: اورجب کبھی کسی چیز کو یاد کرو تو اس کو خوب دہراؤ پھر اس کو جس قد ر پختہ کرسکتے ہو کرلو