طالب علم کے لیے مناسب یہ ہے کہ وہ سبق کی ابتداء اس چیز سے کرے جو اسکی فہم کے قریب تر ہو۔
حضرت شیخ امام شرف الدین عقیلی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرمایا کرتے تھے کہ میرے نزدیک درست یہی ہے جو ہمارے مشائخ کرتے تھے کہ وہ ابتدائی طالب کے لیے مبسوط کتب سے اخذ کردہ مختصر مواد کا انتخاب فرماتے تھے کیونکہ یہ مواد سمجھنے اوریاد کرنے کیلئے زیادہ موزوں رہتاہے اوریہ طریقہ پریشانی سے بچانے والا ہے اورزیادہ تر لوگوں میں یہی رائج ہے۔
طالب العلم کے لئے ضروری ہے کہ استاد سے سبق حاصل کرے اوربار بار اعادہ کرنے کے بعد اس کو لکھ کر قید کرے کہ اس طرح کرنا بہت زیادہ فائدہ مند ہے ۔
طالب علم کو کوئی بھی ایسی چیز نہیں لکھنی چاہیے جو اس نے سمجھی نہ ہوکیونکہ اس طرح لکھ لینا طبیعت کی پریشانی اورذہانت کو کھودینے اورضیاع وقت کا موجب ہوگا۔
طالب علم کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنے استاد ہی سے سبق سمجھنے کی کوشش کرے یا خوب غوروفکر اورکثرت تکرار سے سبق کو سمجھنے کی کوشش کرے جب سبق کم