Brailvi Books

راہِ علم
64 - 109
درجہ بدرجہ بڑھاتا چلا جائے ،بصورت دیگر اگر ابتداء ہی میں سبق زیادہ کرلیااور اسے سمجھانے کے ليے اس سبق کو دس مرتبہ دہرانا پڑا تو پھر آخر تک وہ اس کا عادی ہوجائے گا اوریہ عادت پھر آسانی سے نہیں چھوٹے گی ۔
    کہا جاتاہے کہ :
اَلسَّبْقُ حَرْفٌ وَالتَّکْرَارُ اَلْفٌ
یعنی سبق ایک حرف ہو اورتکرار ایک ہزار بار ہونی چاہیے ۔
    طالب علم کے لیے مناسب یہ ہے کہ وہ سبق کی ابتداء اس چیز سے کرے جو اسکی فہم کے قریب تر ہو۔
    حضرت شیخ امام شرف الدین عقیلی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرمایا کرتے تھے کہ میرے نزدیک درست یہی ہے جو ہمارے مشائخ کرتے تھے کہ وہ ابتدائی طالب کے لیے مبسوط کتب سے اخذ کردہ مختصر مواد کا انتخاب فرماتے تھے کیونکہ یہ مواد سمجھنے اوریاد کرنے کیلئے زیادہ موزوں رہتاہے اوریہ طریقہ پریشانی سے بچانے والا ہے اورزیادہ تر لوگوں میں یہی رائج ہے۔
    طالب العلم کے لئے ضروری ہے کہ استاد سے سبق حاصل کرے اوربار بار اعادہ کرنے کے بعد اس کو لکھ کر قید کرے کہ اس طرح کرنا بہت زیادہ فائدہ مند ہے ۔
    طالب علم کو کوئی بھی ایسی چیز نہیں لکھنی چاہیے جو اس نے سمجھی نہ ہوکیونکہ اس طرح لکھ لینا طبیعت کی پریشانی اورذہانت کو کھودینے اورضیاع وقت کا موجب ہوگا۔
    طالب علم کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنے استاد ہی سے سبق سمجھنے کی کوشش کرے یا خوب غوروفکر اورکثرت تکرار سے سبق کو سمجھنے کی کوشش کرے جب سبق کم
Flag Counter