Brailvi Books

راہِ علم
56 - 109
ترجمہ: جہل ا مرنے سے پہلے بھی گویا مردے ہیں جبکہ علماء اگرچہ دنیا سے تشریف لے جائیں وہ ذکر خیر کے سبب زندہ رہتے ہیں ۔
    شیخ الاسلام برہان الدین رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں :
         وَفِی الْجَھْلِ قَبْلَ الْمَوْتِ مَوْتٌ لِاَھْلِہٖ 

        فَاَجْسَامُھُمْ قَبْلَ الْقُبُوْرِ قُبُوْرُ
ترجمہ: حالت جہالت موت آنے سے قبل ہی جاہلوں کیلئے موت ہے اوران کے اجسام قبروں میں جانے سے پہلے ہی مثل قبرہیں۔
        وَاِنَّ امْرَأً لَمْ یَحْیَ بِالْعِلْمِ مَیِّتٌ 

     وَلَیْسَ لَہٗ حِیْنَ النُّشُوْرِ نُشُوْرُ
ترجمہ: ایسا شخص جسکی وابستگی علم کے ساتھ ہو نہ وہ میت کی طرح ہے اور بروزقیامت (جو کہ اہل علم کے ليے انعام واکرام کا دن ہے )ایسے شخص کیلئے کوئی حصہ نہیں ۔
    ایک شاعر کہتاہے :
        اَخُوالْعِلْمِ حَیٌّ خَالِدٌ بَعْدَ مَوْتِہٖ 

        وَاَوْصَالُہٗ تَحْتَ التُّرَابِ رَمِیْمُ
ترجمہ: علم سے وابستہ ہر فرد زندہ رہنے والا ہے اوراپنی موت کے بعد بھی وہ ہمیشہ زندہ رہے گا ، اگر چہ اس کی ہڈیاں بظاہر مٹی تلے فنا ہوجائیں ۔
        وَذُوالْجَھْلِ مَیْتٌ وَھُوَ یَمْشِیْ عَلَی الثَّرَی 

        یُظَنُّ مِنَ الْاَحْیَاءِ وَھُوَ عَدِیْمُ
ترجمہ: ایک جاہل زمین پر چلتے پھرتے بھی مردہ ہے وہ زندوں میں شمار ہونے کے
Flag Counter