Brailvi Books

راہِ علم
55 - 109
ہو سکے فللہ الحمداور جو بات تیری فہم سے دور ہوتو اسے اہل علم سے پوچھ لو۔
    بزرگان دین فرماتے ہیں کہ علم کے فضائل ومناقب میں غور وفکر نہ کرنے سے سستی وکاہلی پیداہوجاتی ہے ۔ لہذا ایک طالب علم کو چاہیے کہ محنت وکوشش اورمواظبت کے ساتھ ساتھ علم کے فضائل ومناقب میں غوروفکر کرتارہے کہ معلومات کا باقی رہنا ہی علم کی بقاء ہے ۔
    اے عزیز طالب علم !مال تو فنا ہونے والی چیز ہے جیسا کہ امیر المومنین حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں :
         رَضِیْنَا قِسْمَۃَ الْجَبَّارِ فِیْنَا 

         لَنَا عِلْمٌ وَ لِلْاَعْدَاءِ مَالُ
ترجمہ: ہم اللہ جل جلالہ کی اس تقسیم پر راضی ہیں کہ ہمارے حصہ میں علم آیا اوردشمنوں کے حصہ میں مال ۔
         فَاِنَّ الْمَالَ یَفْنَی عَنْ قَرِیْبٍ 

         وَاِنَّ الْعِلْمَ یَبْقَی لاَیَزَالُ
ترجمہ: کیونکہ مال عنقریب فنا ہوجائے گا ،جبکہ علم ہمیشہ ہمیشہ باقی رہے گا۔
    بمقابلہ مال،علم نافع کے ذریعے بندے کو نیک نامی حاصل ہوتی ہے اوریہ نیک نامی اسکی موت کے بعد بھی باقی رہتی ہے اوریہ ہی حیات ابدی ہے ۔
    مفتی الائمہ شیخ ظہیر الدین حسن بن علی عرف مرغینانی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں:
         اَلْجَاہِلُوْنَ فَمَوْتَی قَبْل مَوْتِھِمْ 

         وَالْعَالِمُوْنَ وَاِنْ مَاتُوْا فَاَحْیَاءُ
Flag Counter