| راہِ علم |
ترجمہ: ہر اچھا کام کرنے والے پر رشک کیا جاتاہے جبکہ سست لوگ بلاؤں اورنحوستوں میں گھرے رہتے ہیں۔
مجھے بھی اس سلسلے میں چند اشعار کہنے کا اتفا ق ہواہے :
دَعِی نَفْسِی التَّکَاسُلَ وَالتَّوَانِی وَاِلاَّ فَاثْبُتِی فِی ذَا الْھَوَانِ
ترجمہ: اے میر ے نفس !سستی اورکاہلی چھوڑدے ،ورنہ یہ رسوائی ہی تیرا مقدر ہوگی۔
فَلَمْ اَرَ لِلْکُسَالَی الْحَظَّ یُعْطِی سِوَی نَدَمٍ وَحِرْمَانِ الْاَمَانِ
ترجمہ: میں نے آج تک نہیں دیکھا کہ کاہلوں کو کچھ ملا ہو سوائے ذلت ورسوائی اورمحرومی ارمان کے ۔
ایک اورشاعر کہتاہے :
کَمْ مِنْ حَیَاءٍ وَکَمْ عَجْزٍوَکَمْ نَدَمٍ جَمٍّ تَوَلَّدَ لِلْاِنْسَانِ مِنْ کَسَلِ
ترجمہ: شرمندگی،عجزپن اور ندامت جیسی بہت سی خامیاں انسان کو اپنی سستی کی بدولت ملتی ہیں ۔
اِیَّاکَ عَنْ کَسَلٍ فِی الْبَحْثِ عَنْ شُبَہٍ فَمَا عَلِمْتَ وَمَا قَدْ شَذَّ عَنْکَ سَلِ
ترجمہ: ازالۂ شبہ کیلئے بحث ومباحثہ کرنے میں سستی سے کام مت لو پس جو تجھے معلوم