ترجمہ: اللہ تعالیٰ بلند پایہ کاموں کو پسند کرتاہے اور حقیر وردی کا موں کو ناپسند فرماتاہے۔
فَلاَ تَعْجَلْ بِاَمْرِکَ وَاسْتَدِمْہُ فَمَا صَلَّی عَصَاکَ کَمُسْتَدِیْم
ترجمہ: تم اپنے کام میں عجلت نہ کرو بس اسکے حصول کیلئے مداومت برتو کیونکہ پابندی اوراستمرارہی سے لاٹھی کی کجی دور ہوتی ہے ۔
ایک مرتبہ امام اعظم ابو حنیفہ رضی اللہ عنہ نے امام ابو یوسف رضی اللہ عنہ سے فرمایا کہ تم تو بہت کند ذہن تھے مگر تمہاری کوشش اور مداومت نے تمہیں آگے بڑھایا لہذاہمیشہ سستی سے بچتے رہنا کہ سستی ایک بہت بڑی آفت اور منحوس چیز ہے ۔
شیخ امام ابو نصر صفار انصاری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ اپنے شعر میں کچھ یوں فرماتے ہیں:
یَانَفْسِ یَا نَفْسِ لَا تُرخِی عَنِ الْعَمَلِ فِی الْبِرِّ وَالْعَدْلِ وَالْاِحْسَانِ فِی مَھَلِ
ترجمہ: اے نفس !فرصت کے وقت عمل کے معاملے میں سستی نہ کرخواہ نیکی ہوعدل ہویااحسان۔
لَکُلُّ ذِی عَمَلٍ فِی الْخَیْرِ مُغْتَبِطٌ