Brailvi Books

راہِ علم
52 - 109
میں جتنی بزرگی ہوگی وہ اسی قدر بلند مرتبہ کو پہنچے گا۔
        وَتَعْظُمُ فِی عَیْنِ الصَّغِیْرِ صِغَارُھَا 		     وَتَصْغُرُ فِی عَیْنِ الْعَظِیْمِ الْعَظَائِمُ
ترجمہ: چھوٹے چھوٹے کم ہمت افراد کو چھوٹے چھوٹے کام بھی بہت بڑے معلوم ہوتے ہیں اورباہمت افراد کی نظر میں بڑے سے بڑا کام کوئی وقعت نہیں رکھتا۔
    اے عزیز طالب علم !ہر کام کے حاصل کرنے کیلئے بلند ہمت اورسخت محنت بنیادی چیز ہے پس اگر کوئی شخص امام محمد رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کی تمام کتابوں کو یاد کرنے کی ہمت رکھتا ہواورسخت محنت اورمستقل مزاجی بھی اس کا ساتھ دے تو یہ ایک یقینی امر ہے کہ اگر وہ حرف بحرف یاد نہ کرسکا تو ان کا اکثر یا کم از کم نصف تو یاد کرہی لے گا۔ اسکے بخلاف اگر کوئی ارادے تو بڑے بڑے رکھتا ہے لیکن اپنے ارادوں کی تکمیل کے لیے محنت بالکل نہ کرتا ہو یا محنت تو کرتا ہولیکن اس کے سامنے مقصد کوئی نہ ہوتویہ دونوں افراد سوائے تھوڑا سا علم حاصل کرنے کے مزید کچھ حاصل نہیں کرسکیں گے ۔
    حضرت شیخ رضی الدین نیشاپوری رحمۃ اللہ علیہ اپنی کتاب ''مکارم الاخلاق '' میں یہ واقعہ نقل کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ ذوالقرنین بادشاہ نے مشرق سے لے کر مغرب تک اپنا تسلط قائم کرنے کیلئے سفر کرنے کا ارادہ کیا۔ اس سلسلے میں اس نے حکماء سے مشورہ کیا کہ اس سلسلے میں اسے کیا کرنا چاہیے اورکہا کہ ''میں سمجھتا ہوں کہ میں خواہ مخواہ اس تھوڑی سی مملکت کے لیے سفر کروں کیونکہ یہ دنیا تو قلیل،فانی اورحقیر شئی ہے اس دنیا کو حاصل کرلینا نہ تو کوئی بھاری کام ہے اورنہ ہی یہ حصول بلند پایا امور میں سے ہے ۔ پس حکماء نے مشورہ دیا کہ حضرت آپ کو اعلاء کلمہ حق کیلئے یہ سفر ضرور اختیار کرنا چاہيے کہ اس طرح آپ کو دنیا وآخر ت دونوں میں حصہ نصیب ہوگا یہ سن کر آپ نے فرمایا یہ تجویز واقعی
Flag Counter