Brailvi Books

راہِ علم
51 - 109
    حضور اکرم نورمجسم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفرمایا:
اَلآ اِنَّ ھَذَا الدِّیْنَ مَتِیْنٌ فَأوْغِلُوْفِیْہِ بِرِفْقٍ وَلاَ تُبَغِّضُ عَلیٰ نَفْسِکَ عِبَادَۃُ اللہِ تَعَالیٰ ، فَاِنَّ الْمُنْبَتِّ لَا اَرْضًا قَطَعَ وَلَا ظَھْرًا اَبْقَی
 (کنزالعمال،کتاب الاخلاق،باب الاقتصاد والرفق فی الاعمال ،الحدیث۵۳۷۴،ج۳،ص۲۰)
ترجمہ: خبردار یہ دین مضبوط ہے اس میں نرمی سے چلو اور اللہ جل جلالہ کی عبادت کو اپنے اوپر بوجھ مت بناؤ اسکی مثال یوں ہے کہ ایک شخص اپنی سواری پر خوب سامان لادے اوراس پرا تنا ظلم کرے کہ وہ لاغر ہوجائے اوریوں یہ شخص اپنے قافلے سے بچھڑ جائے کہ اب یہ قافلے سے بچھڑنے والا نہ تو زمین چیر سکتاہے اورنہ اپنے جانور کو زمین پر زندہ رکھ سکتاہے ، یوں یہ شخص منزل مقصود پر پہنچنے کے بجائے راہ ہی میں بھٹک جاتاہے۔
    تاجدارمدینہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا :
نَفْسُکَ مَطِیَّتُکَ فَارْفُقْ بِھَا۔
ترجمہ: تیرا نفس تیری سواری ہے پس اس کے ساتھ نرمی سے پیش آؤ ۔
    ایک طالب علم کو تحصیل علم کے ليے پختہ اورمضبوط ارادوں کی بہت سخت ضرورت ہوتی ہے کہ جس طرح ایک چڑیا اپنے پروں کی مدد سے ہی فضا میں اڑسکتی ہے بالکل اسی طرح ایک انسان کو بلند پرواز کیلئے بلند ہمتوں کی ضرورت ہوتی ہے ۔
    ابوطیب کہتاہے :
         عَلیٰ قَدْرِ اَھْلِ الْعَزمِ تَأتِی الْعَزَائِمُ 		         وَتَأتِی عَلیٰ قَدْرِ الْکِرَام الْمَکَارِمُ
ترجمہ: ہر بندہ اپنے ارادے کے مطابق ہی بڑے بڑے امور تک پہنچتاہے جس
Flag Counter