بِقَدْرِ الْکَدِّ تُعْطَی مَا تَرُوْمُ فَمَنْ رَامَ الْمُنٰی لَیْلاً یَقُوْمُ
ترجمہ: تو اپنی تمناؤں کو بقدر محنت ہی حاصل کرسکتاہے جو ڈھیروں مقاصد حاصل کرنا چاہتا ہو تو اسے چاہیے کہ راتوں کو قیام کرے۔
وَاَیَّا مَ الْحَدَاثَۃِ فَاغْتَنِمْھَا اَلَا اِنَّ الْحَدَاثَۃَ لَاتَدُوْمُ
ترجمہ:زندگی کے یہ دن تو عارضی ہیں ،انہیں غنیمت جان کر ان سے فائدہ اٹھا لو کیونکہ عارضی چیز ہمیشہ نہیں رہتی۔
طالب علم کو چاہیے کہ اپنے آپ کو زیادہ محنت ومشقت میں بھی نہ ڈالے اوراپنی جان پر اتنا بوجھ بھی نہ ڈالے کہ بندہ عمل کرنے سے لاچار ہوجائے بلکہ اس معاملہ میں نرمی سے کام لے کہ نرمی تمام اشیاء کی اصل ہے ۔