Brailvi Books

راہِ علم
50 - 109
ترجمہ: اے عزیز طالب علم !تقوی اورپرہیز گاری کو لازم پکڑ ، نیند سے کنارہ کر اور شکم سیر ہونا چھوڑ دے ۔
         دَاوِمْ عَلَی الدَّرْسِ لَاتُفَارِقْہ، 		        فَالْعِلْمُ بِالدَّرْسِ قَامَ وَارْتَفَعَا
ترجمہ: درس وتکرار پر مداومت اختیار کر کبھی اس میں ناغہ مت کرنا کہ علم کا پودا درس وتکرار ہی سے کھڑا رہتاہے اورمزید پھلتا پھولتارہتاہے ۔
    الغرض ایک طالب علم کو آغاز جوانی اورنوعمری سے فائدہ اٹھانا چاہیے جیسا کہ ایک شاعر کہتاہے کہ:
         بِقَدْرِ الْکَدِّ تُعْطَی مَا تَرُوْمُ 		         فَمَنْ رَامَ الْمُنٰی لَیْلاً یَقُوْمُ
ترجمہ: تو اپنی تمناؤں کو بقدر محنت ہی حاصل کرسکتاہے جو ڈھیروں مقاصد حاصل کرنا چاہتا ہو تو اسے چاہیے کہ راتوں کو قیام کرے۔
وَاَیَّا مَ الْحَدَاثَۃِ فَاغْتَنِمْھَا		اَلَا اِنَّ الْحَدَاثَۃَ لَاتَدُوْمُ
ترجمہ:زندگی کے یہ دن تو عارضی ہیں ،انہیں غنیمت جان کر ان سے فائدہ اٹھا لو کیونکہ عارضی چیز ہمیشہ نہیں رہتی۔
    طالب علم کو چاہیے کہ اپنے آپ کو زیادہ محنت ومشقت میں بھی نہ ڈالے اوراپنی جان پر اتنا بوجھ بھی نہ ڈالے کہ بندہ عمل کرنے سے لاچار ہوجائے بلکہ اس معاملہ میں نرمی سے کام لے کہ نرمی تمام اشیاء کی اصل ہے ۔
Flag Counter