وَلَیْسَ اکْتِسَابُ الْمَالِ دُونَ مَشَقَّۃٍ تَحَمَّلُھَا فَالْعِلْمُ کَیْفَ یَکُوْنُ
ترجمہ: جب مال مشقت کے بغیر حاصل نہیں کیا جاسکتا کہ اس کے کمانے کیلئے مشقت اٹھاتا ہے تو پھر علم کو جو کہ اعظم الامور ہے تو بغیر محنت ومشقت کے کیسے حاصل کرسکتاہے ۔
ابو طیب کہتاہے کہ :
وَلَمْ اَرَ فِیْ عُیُوْبِ النَّاسِ عَیْبًا کَنَقْصِ الْقَادِ رِیْنَ عَلَی التَّمَامِ
ترجمہ: لوگوں میں پائے جانے والے عیوب میں سے میں نے اس سے بڑاکوئی عیب نہیں دیکھا کہ باوجود قدرت ہونے کے کسی کام کو ادھورا چھوڑ دیا جائے ۔
ایک طالب علم کے لیے راتوں کو بیداری بھی ایک لازمی چیز ہے جیسا کہ ایک شاعر کہتاہے :
بِقَدْرِ الْکَدِّ تُکْسَبُ الْمَعَالِی وَمَنْ طَلَبَ الْعُلاَ سَھِرَ اللَّیَالِی
ترجمہ: تم اپنی محنت ولگن کے اعتبار سے ترقی پاؤگے جو بلندیوں کو چھونا چاہتاہے اسے چاہیے کہ شب بیداری کرے ۔