Brailvi Books

راہِ علم
46 - 109
 (۱)طالب علم    (۲)استاد (۳)باپ (اگر زندہ ہوتو )
    شیخ سعید الدین شیرازی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے ایک مرتبہ مجھے امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ کے لکھے ہوئے یہ سبق آموز اشعار سنائے ۔
         اَلْجِدُّ یُدْنِیْ کُلَّ اَمْرٍ شَا سِعِ 		         وَالْجِدُّ یَفْتَحُ کُلَّ بَابٍ مُغْلَقِ
ترجمہ: محنت وکوشش ہر بعید الحصول چیز کو قریب کردیتی ہے ،محنت وکوشش ہر بند دروازے کو کھول دیتی ہے۔
         وَاَحَقُّ خَلْقِ اللہِ بِالْھَمِّ امْرُؤٌ 		     ذُوْھِمَّۃٍ یُبْلَی بِعَیْشٍ ضَیِّقِ
ترجمہ: مخلوق الہٰی میں حزن وغم سے دوچار اورتنگ زندگی میں وہی رہتاہے جو محنتی اورباحوصلہ ہو۔
         وَمِنَ الدَّلِیْلِ عَلَی الْقَضَاءِ وَحُکْمِہِ 		         بُؤْسُ اللَّبِیْبِ وَطِیْبُ عَیْشِ الْاَحْمَقِ
ترجمہ: عقلمند کی بدحالی اوراحمق کی خوشحالی اللہ جل جلالہ کے قضاوحکم پر دلیل ہے ۔
         لٰکِنَّ مَنْ رُزِقَ الْحِجَی حُرِمَ الْغِنَی 		     ضِدَّانِ یَفْتَرِقَانِ اَیَّ تَفَرُّقِ
ترجمہ: جسے عقل وذکاوت دی گئی اسے عیش وعشرت سے محروم کردیا جاتاہے کیونکہ دو ضدین کبھی بھی جمع نہیں ہوسکتیں ۔
ایک اورشاعر کہتاہے :
Flag Counter