| راہِ علم |
شیخ سعید الدین شیرازی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے ایک مرتبہ مجھے امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ کے لکھے ہوئے یہ سبق آموز اشعار سنائے ۔
اَلْجِدُّ یُدْنِیْ کُلَّ اَمْرٍ شَا سِعِ وَالْجِدُّ یَفْتَحُ کُلَّ بَابٍ مُغْلَقِ
ترجمہ: محنت وکوشش ہر بعید الحصول چیز کو قریب کردیتی ہے ،محنت وکوشش ہر بند دروازے کو کھول دیتی ہے۔
وَاَحَقُّ خَلْقِ اللہِ بِالْھَمِّ امْرُؤٌ ذُوْھِمَّۃٍ یُبْلَی بِعَیْشٍ ضَیِّقِ
ترجمہ: مخلوق الہٰی میں حزن وغم سے دوچار اورتنگ زندگی میں وہی رہتاہے جو محنتی اورباحوصلہ ہو۔
وَمِنَ الدَّلِیْلِ عَلَی الْقَضَاءِ وَحُکْمِہِ بُؤْسُ اللَّبِیْبِ وَطِیْبُ عَیْشِ الْاَحْمَقِ
ترجمہ: عقلمند کی بدحالی اوراحمق کی خوشحالی اللہ جل جلالہ کے قضاوحکم پر دلیل ہے ۔
لٰکِنَّ مَنْ رُزِقَ الْحِجَی حُرِمَ الْغِنَی ضِدَّانِ یَفْتَرِقَانِ اَیَّ تَفَرُّقِ
ترجمہ: جسے عقل وذکاوت دی گئی اسے عیش وعشرت سے محروم کردیا جاتاہے کیونکہ دو ضدین کبھی بھی جمع نہیں ہوسکتیں ۔
ایک اورشاعر کہتاہے :